عمر رضی اللہ عنہ کے سعید بن عامر سے سوالات

عمر رضی اللہ عنہ کے سعید بن عامر سے سوالات

Umar(r.a)Questions to Saeed Bin Amir

Umar(r.a)Questions to Saeed Bin Amir

 

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ

شام کے ایک شہر حمص کے گورنر تھے۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ دیکھنے کے لیے

ہمس کے پاس گئے تو وہاں کے حالات کیسے چل رہے ہیں

ان کی ملاقات لوگوں کی ایک بڑی جماعت سے ہوئی جو ان سے حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی شکایت کرنے لگے۔

انہوں نے چار معاملات میں اس کے ساتھ عیب پایا۔

سب سے پہلے انہوں نے کہا وہ آدھی صبح تک ان کے پاس نہیں آئے گا۔

دوسرا وہ رات کے وقت کسی بھی پکارنے والے کو جواب دینے سے انکار کر دے گا۔

تیسرا مہینے میں ایک بار لوگوں سے دور رہتا۔

اور چوتھا ایک بار سعید رضی اللہ عنہ بغیر کسی ظاہری وجہ کے بے ہوش ہو جاتے اور بے ہوش ہو جاتے۔

 

شکایت کا جواب

 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید رضی اللہ عنہ سے ان کی شکایت کا جواب طلب کیا۔

پہلی شکایت کے بارے میں حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا

کہ ان کے پاس کوئی نوکر نہیں تھا اور وہ روٹی بنانے کے لیے ہر صبح اپنے گیہوں کو کچلنا پڑتا تھا۔

جیسے ہی وہ اپنی روٹی بنانا ختم کرے گا، اس نے کہا، پھر وہ لوگوں کی خدمت کے لیے نکلے گا۔

جہاں تک رات کے وقت کسی پکارنے والے کو جواب نہ دینے کا تعلق ہے،

اس نے کہا کہ اس نے اپنے دن لوگوں کی خدمت اور اپنی راتیں اللہ کی عبادت کے لیے وقف کیں۔

جہاں تک مہینے میں ایک بار لوگوں کے پاس نہ جانے کا تعلق ہے، اس نے وضاحت کی کہ اس

کے پاس صرف ایک کپڑا ہے اور وہ اسے مہینے میں ایک بار دھوتا ہے

اور پھر اس کے خشک ہونے تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔جہاں تک ہر بار گزرنے کا تعلق ہے، اس نے یہ وضاحت کی

جب میں مشرک تھا تو میں نے مکہ مکرمہ میں حضرت حبیب الانصاری رضی اللہ عنہ

کو بے دردی سے قتل ہوتے دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ قریش کس طرح آہستہ آہستہ اس کا گوشت کاٹتے رہے۔

انہوں نے حبیب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا اب آپ چاہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کی جگہ لیں؟

 

محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 

 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کی قسم اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چوٹ بھی لگ جائے

تو میں اپنے آپ اپنے اہل و عیال اور بچوں کے ساتھ محفوظ نہیں رہوں گا۔

جب بھی مجھے وہ دن یاد آتا ہے اور میں نے حضرت حبیب رضی اللہ عنہ کی مدد کرنے سے کیسے پرہیز کیا تھا

 کیونکہ میں مشرک تھا اور اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا تھا میں سوچنے لگتا ہوں

کہ اللہ تعالیٰ قدرت و عظمت کا مالک، مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا۔

تب میں بیہوش ہو جاتا ہوں اے قائدِ مومن۔سبحان اللہ! ایسے ہی صالحین تھے۔

اللہ ہمیں اپنے نیک پیشرو کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اللہ ہمیں سیرت المصطق کی طرف رہنمائی فرمائے

 

You May Also Like:The Story Of Magician Prince

You May Also Like:The Hazrat Rabiya Basri(r.a) Story

Leave a Reply

Your email address will not be published.