عمر بن الخطاب کا قصہ

عمر بن الخطاب کا قصہ

Story Of Umar ibn Al-Khattab

 

عمر بن الخطاب اسلام کے دوسرے خلیفہ تھے قحط کے دنوں میں ایک انتہائی دل کو چھو لینے

والا واقعہ پیش آیا جو حکمرانوں اور ہر ایک مستند مقام کے لیے سبق چھوڑ جاتا ہے۔

جب قحط کا سال تھا عمر رضی اللہ عنہ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بہت تکلیف

اٹھائی کہ مناسب امداد تمام لوگوں تک پہنچ جائے اور شہر میں کوئی بھی شخص بھوکا نہ سوئے۔

ایک رات حسب معمول حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے چکر پر گئے

ان کے ساتھ ان کا غلام اسلم بھی تھا

جب وہ گلی گلی ٹہل رہا تھا تو سب خاموش تھا اور لوگ سو رہے تھے

عمر رضی اللہ عنہ نے دل میں سوچا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس شہر میں کوئی ایسا نہیں جسے قحط نے مبتلا کیا ہو۔

پھر جب اس نے ایک کونے کا رخ کیا تو اسے ایک جھونپڑی نظر آئی جہاں روشنی جل رہی تھی

اور جہاں سے بچوں کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی عمر رضی اللہ عنہ جھونپڑی میں گئے۔

اس نے دیکھا کہ گھر کی عورت چولہے پر کچھ پکا رہی ہے اور بچے رو رہے ہیں۔

 

گھر کی خاتون

 

عمر رضی اللہ عنہ نے دروازے پر دستک دی اور گھر کی خاتون سے مخاطب ہو کر عمر رضی اللہ عنہ

نے پوچھا کہ بچے کیوں رو رہے ہیں اس نے کہا کہ وہ رو رہے تھے کیونکہ وہ بھوکے تھے۔

اور کیا بنا رہے ہو عمر نے پوچھا خاتون نے بتایا کہ کیتلی میں صرف پانی اور پتھر تھے۔

یہ بچوں کو دور کرنے کے لیے تھا کہ ان کے لیے کھانا پکایا جا رہا تھا اسے امید تھی

کہ بچے تھک کر سو جائیں گے۔

یہ افسوسناک واقعہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو قصوروار ٹھہرایا اس نے سوچا تھا

کہ اس کے انتظامات کی وجہ سے شہر میں کوئی مصیبت زدہ نہیں ہے اور یہاں ایک خاندان

بھوکا مر رہا ہےعمر نے خاتون سے کہا کہ وہ فوری طور پر اس کے گھر والوں کے لیے

امداد کا بندوبست کرے گا۔

بیت المال

 

حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیت المال تشریف لے گئےوہاں اس نے ضروری سامان

ایک تھیلے میں رکھا اور تھیلا لے کر کاٹیج میں چلا گیا اس کے غلام نے اصرار کیا کہ وہ

تھیلی اٹھائے گا لیکن عمر نے کہا کہ اس کا بوجھ وہ خود اٹھائے گا حضرت عمر رضی اللہ عنہ

نے سامان کا تھیلا خاتون کے حوالے کیاعمر رضی اللہ عنہ چولہا کے پاس بیٹھ گئے

اور کھانا پکانے میں عورت کی مدد کی جب کھانا تیار ہوا تو بچوں کو جگایا گیا اور لذیذ کھانوں

کے ساتھ پیش کیا گیا۔ جیسے ہی بچوں نے پیٹ بھر کر کھایا اور مطمئن ہو گئے وہ خوشی کی

مسکراہٹ کے ساتھ مسکرائےبے سہارا بچوں کو مسکراتے دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ بھی خوش ہوئے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے دریافت کیا کہ کیا کوئی سہارا نہیں

 

والد کا انتقال

 

 اس نے کہا کہ بچوں کے والد کا انتقال ہو چکا ہےاور سہارا دینے کے لیے کوئی

جسم نہیں تھا گھر میں جو کچھ تھا وہ آہستہ آہستہ ختم ہو گیا اور وہ پچھلے تین دن سے بھوکے مر رہے تھے۔

عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاتون سے پوچھا کہ اس نے اپنی پریشانی خلیفہ کو کیوں نہیں بتائی

 اس خاتون نے کہا کہ غربت کے باوجود اسے عزت نفس کا احساس ہے اور وہ خلیفہ کے

پاس جا کر کسی احسان کی بھیک نہیں مانگ سکتیاس نے مزید کہا کہ یہ خلیفہ پر فرض ہے

کہ وہ اس بات کا تعین کرے کہ اس کے انچارج میں کوئی ایسا نہیں ہے جو بھوک سے مر رہا ہو۔

عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم ٹھیک کہتے ہوماضی کی کوتاہی کے لیے مجھے معاف کر دیں۔

مستقبل کے لیے یہ دیکھنا میری ذمہ داری ہو گی کہ آپ کی خواہشات پوری ہوں۔

 

You May Also Like:Sheikh Saadi And Women Story

You May Also Like:The Story Of Sayyida Nafisa

Leave a Reply

Your email address will not be published.