حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی قبر

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کی قبر

Tomb of Hazrat Abu Darda (رضي الله عنه)

Tomb of Hazrat Abu Darda (رضي الله عنه)

دمشق میں یہ قبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نامور صحابی ابو درداء رضی اللہ عنہ کی ہے

ان کی اہلیہ ام الدرداء بھی ان کے قریب ہی مدفون ہیں۔

کثیر بن قیس روایت کرتے ہیں

دمشق کی ایک مسجد میں ابو درداء رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھ

ے کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابو درداء رضی اللہ عنہ

میں مدینہ سے آپ سے ایک حدیث سیکھنے آیا ہوں جیسا کہ میں سمجھتا ہوں

کہ آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنا ہے۔

ابو درداء رضی اللہ عنہ نے پوچھا

کیا آپ کا دمشق میں کوئی اور کام ہے؟” وہ شخص: “نہیں۔”

ابو درداء رضی اللہ عنہ: کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کو

دمشق میں کوئی اور کام نہیں ہے؟

وہ شخص: ’’میں اس مقام پر صرف اس حدیث کو سیکھنے کے لیے آیا ہوں‘‘۔

ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: سنو۔

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ

اس شخص کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے جو علم حاصل

کرنے کے لیے کچھ فاصلہ طے کرتا ہے۔

فرشتے اس کے قدموں کے نیچے اپنے پر پھیلاتے ہیں، اور آسمانوں اور

زمین کی تمام چیزیں (حتی کہ پانی میں مچھلیاں) اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔

علم والے کی فضیلت عبادت کرنے والے پر اتنی ہے جیسے چاند کی فضیلت ستاروں پر۔

علماء نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وارث ہیں انبیاء علیہم

السلام کی میراث نہ سونا ہے نہ چاندی۔

ان کی میراث علم ہےجس شخص نے علم حاصل کیا

اس نے بڑی دولت حاصل کی۔

 

مقبرے کا دروازہ

Tomb of Hazrat Abu Darda (رضي الله عنه)

ابو درداء رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سرفہرست ہیں جو دین میں

بہت اچھی معلومات رکھتے تھے انہیں حکیم الامت کہا جاتا ہے۔

اس نے ایک بار کہا

اسلام سے پہلے میں تجارت پر رہتا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد

میں نے اللہ کی خدمت کو اپنے کاروبار کے ساتھ جوڑنے

کی کوشش کی لیکن میں ایسا نہ کر سکا۔

اس لیے میں نے کاروبار چھوڑ دیا اور اپنے آپ کو صرف اور صرف

اللہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیااب اگر مسجد کے دروازے پر

میری دکان ہے اور اس میں ایک نماز کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو

اور خواہ وہ دکان مجھے 40 دینار روزانہ نفع دے کہ ساری رقم اللہ کی راہ

میں خرچ کر دوں تب بھی میں میں کاروبار کی طرف رجوع کرنے کو تیار نہیں ہوں۔

کسی نے وجہ دریافت کی۔ اس نے جواب دیا حساب کے خوف کی وجہ سے۔

ابو درداء رضی اللہ عنہ نے 179 احادیث روایت کی ہیں۔

تاریخ وفات

ان کا انتقال 32 ہجری میں ہوا۔

You Might Also Like:The House of Abu Ayyub Ansari (R.A)

Leave a Reply

Your email address will not be published.