خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قبر

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قبر

Tomb of Khalid-bin-Waleed (r.a)

Tomb of Khalid-bin-Waleed (r.a)

 

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اور

زندہ رہنے والے عظیم ترین مسلمان جرنیل اپنے بیٹے کے ساتھ

حمص کی اس مسجد کے ایک کونے میں دفن ہیں۔

یہ مسجد شام میں جاری جنگ میں جزوی طور پر تباہ ہو گئی تھی لیکن

اب اس کی تزئین و آرائش کر دی گئی ہے۔

خالد کے مقبرے کے پتھر میں 50 سے زیادہ فتح یافتہ لڑائیوں کی فہرست دکھائی گئی ہے

جن کی اس نے بغیر کسی شکست کے کمانڈ کی تھی (بغیر چھوٹی لڑائیاں)۔

اس کی ایک تلوار بھی نمائش میں تھی اور ایک ڈھال بھی جو باہر آویزاں تھی۔

ان کے اسلام قبول کرنے سے پہلے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جنگ احد میں قریش کی طرف سے لڑے تھے

اور یہ ان کی فوجی چالوں کی وجہ سے 70 صحابہ کی موت واقع ہوئی تھی۔

اسلام قبول کرنے کے بعد خالد رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے جنگ موتہ میں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ تین سرداروں کے شہید ہونے کے بعد

مسلمانوں کی فوج کی ذمہ داری سنبھالی۔ اس نے کامیابی سے حفاظتی دستبرداری کا حکم دیا۔

خالد رضی اللہ عنہ نے معرکہ میں 9 تلواریں توڑ دیں اور جنگ موتہ کے بعد

انہیں سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کا لقب دیا گیا۔

خالد بن ولید کی مسجد

The Mosque Of Khalid bin Waleed

 

وہ اب تک کے کامیاب ترین فوجی کمانڈروں میں سے ایک تھے۔

وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے فوری جانشینوں کی خلافت ابوبکر اور

عمر بن الخطاب کی افواج کی کمانڈ کرنے کی اپنی فوجی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔

اسے بازنطینی رومی سلطنت ساسانی فارسی سلطنت اور ان کے اتحادیوں کی

عددی اعتبار سے اعلیٰ افواج کے خلاف سو سے زائد لڑائیوں

میں ناقابل شکست رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ 633 سے 636 عیسوی کے تین سالوں میں

فارس سلطنت کی عراق پر اس کی تیزی سے فتح اور رومی شام کی فتح اس کی

سب سے بڑی حکمت عملی کامیابیاں تھیں جب کہ اس کی سب سے بڑی

حکمت عملی کامیابیاں والاجا میں اس کی کامیاب دوہری لفافہ چال اور

یمامہ الیس اور یرموک میں اس کی فیصلہ کن فتوحات تھیں۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا المیہ ان کے بستر پر مرنا تھا۔

وہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں نے فلاں فلاں جنگ اور فلاں فلاں (دشمنوں کی طرف)

پیش قدمی میں شرکت کی اور میرے جسم کا کوئی نشان نہیں مگر یہ کہ اس

میں تلوار کی ضرب نیزے کی چھید ہو یا تیر۔

پھینکنا اور اب میں اپنے بستر پر اسی طرح مر رہا ہوں

جس طرح اونٹ مرتا ہے۔ بزدلوں کی آنکھیں کبھی نہ سوئیں

علماء نے کہا ہے کہ اس کی موت فطری موت کی وجہ یہ تھی کہ وہ ’’اللہ کی تلوار‘‘ تھا

اور اس طرح یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کسی دوسرے آدمی کے ہاتھوں مارا جائے۔

خالد بن ولید کی مسجد کو شام کی خانہ جنگی کے دوران بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اب مسجد کی تزئین و آرائش کر دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.