مقدس حجرہ (روضہ مبارک)

مقدس حجرہ (روضہ مبارک)

The Sacred chamber (Rawdah Mubarak)

 

یہ سونے کی گرل روضہ مبارک کا اگلا حصہ ہے وہ مقدس حجرہ جس میں

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور وہیں دفن ہیں۔

اس میں اسلام کے پہلے دو خلیفہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی قبریں بھی ہیں۔

مدینہ منورہ کی زیارت اور زیارت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

جو میری وفات کے بعد میری زیارت کرے وہ اس شخص کی طرح ہے

جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔

جس نے مکہ مکرمہ میں حج کیا پھر مدینہ منورہ میں صرف میری مسجد میں

میری زیارت کے لیے آئے تو اس کے لیے دو مقبول حج لکھے جائیں گے۔ [دیلامی]

جب کوئی شخص میری قبر پر کھڑا ہو کر مجھ پر درود پڑھتا ہے تو میں اسے سنتا ہوں۔

اور جو کسی اور جگہ مجھ پر درود بھیجے گا اس کی دنیا اور آخرت میں ہر حاجت پوری ہو جائے گی

اور میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور سفارشی ہوں گا۔ [بیہقی]

 

 (پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم) معجزہ کا خاکہ دیکھیں 

 

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دفن کیا گیا

جس کے گھر میں آپ وفات کے وقت مقیم تھیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مسجد سے ملحقہ چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں میں رہتی تھیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جھونپڑی کے بائیں جانب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کی دوسری بیوی سودہ رضی اللہ عنہا کی جھونپڑی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بیوی حفصہ رضی اللہ عنہا

اور عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی کی جھونپڑی مخالف سمت میں تھی۔

ان کے گھروں کے درمیان ایک بہت ہی تنگ گلی ہوا کرتی تھی

جس میں سے صرف ایک آدمی کے گزرنے کے لیے کافی تھا۔

اور حفصہ رضی اللہ عنہا اپنی اپنی جھونپڑیوں میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کرتی تھیں۔

عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے 91 ہجری میں پانچ کونوں والی دیواریں

بنوائیں تاکہ حجرہ مبارک کے اندر کوئی داخل نہ ہو۔

قبروں کے نیچے کھود کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کو چرانے کی کئی

سازشوں کا پردہ فاش ہونے کے بعد سلطان نورالدین زینگی نے حجرے کے

گرد ایک خندق بنوائی جو پگھلے ہوئے سیسے سے بھری ہوئی تھی۔

 

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات اور تدفین 

 

 

محرم 11 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ حرارت بڑھتا چلا گیا

اور آپ دن بدن بیمار ہوتے گئے۔

اس نے اپنی بیویوں سے عائشہ رضی اللہ عنہا کے کمرے میں رہنے کی اجازت

چاہی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔

پیر 12 ربیع الاول کو وہ سر پر پٹی باندھ کر باہر نکلے۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھا رہے تھے اور پیچھے ہٹ گئے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے انہیں نماز مکمل کرنے کا اشارہ کیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری نصیحت فرمائی ان میں نماز کی اہمیت

اور غلاموں اور نوکروں کے ساتھ انصاف کرنا تھا۔

اختتام پر انہوں نے کہامیں آپ کے ساتھ دو چیزیں چھوڑتا ہوں۔

جب تک آپ انہیں مضبوطی سے پکڑے رہیں گے آپ کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔

وہ اللہ کی کتاب (قرآن) اور میری سنت ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمزور ہوتے گئے اور بالآخر 12 ربیع الاول 11

ہجری (633 عیسوی) پیر کی سہ پہر کو انتقال کر گئے۔

You Might Also Like:The Masjid al-Aqsa (Bayt al-Maqdis)

You Might Also Like:City Of The Madinah

Leave a Reply

Your email address will not be published.