ابو حنیفہ کا پڑوسی

ابو حنیفہ کا پڑوسی

The Neighbour Of Abu Hanifa

مشہور ہے کہ ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ہر رات تہجد کیا کرتے تھے۔

وہ رات قرآن کی تلاوت میں گزارتے۔

اس کا ایک پڑوسی تھا جو شرابی تھا اور وہ بہت پیتا تھا اور

محبت کے اشعار گاتا تھایہ بات امام کو پریشان کرتی تھی۔

لیکن ایک دن امام نے اس شخص کی رونقیں نہ سنی تو اس نے جا کر

اس کے بارے میں پوچھاانہوں نے کہا “اوہ، فلاں فلاں۔

چنانچہ محترم امام جیل چلے گئے۔

وہ اس وقت اس جگہ کے سب سے معزز امام اور قاضی تھے۔

 جب حاکم کو معلوم ہوا کہ امام جیل میں گئے۔

تو اس نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ امام کو اپنے پڑوسی کی فکر ہے جسے گرفتار کیا گیا ہے۔

چنانچہ حاکم نے کہا کہ اس آدمی کو چھوڑ دو، اور وہ رہا ہو گیا۔

پھر پڑوسی نے ابو حنیفہ سے پوچھا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا تو انہوں نے جواب دیا

کہ اس لیے کہ پڑوسی ہونے کے ناطے آپ کا مجھ پر حق ہے اور میں اس سے غافل نہیں ہوں۔

یہی وجہ تھی کہ پڑوسی نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے توبہ کی [یعنی اسلام قبول کیا]۔

You May Also Like:A One Thousand Camels

You May Also Like:The Young Mans And Fear Of Allah

Leave a Reply

Your email address will not be published.