ابراہیم اور آگ

ابراہیم اور آگ

The Ibrahim and the Fire

جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ نے فرمایا

ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا جب آپ سے کہا گیا کہ

اس کے خلاف مشرکین کا ایک بڑا لشکر جمع ہو گیا ہے لہٰذا ان سے ڈرو۔

لیکن اس (تنبیہ) نے ان کے اور

مسلمانوں کے ایمان میں اضافہ ہی کیا اور انہوں نے کہا

’’ہمارے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے‘‘۔ [بخاری]

اداس اونٹ

sad camel

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے

ایک آدمی کے باغ میں داخل ہوئے۔

اچانک ایک اونٹنی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو

وہ رونے لگی اور اس کی آنکھیں بہنے لگیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس

کے پاس آئے اور اس کے سر کا مسح کیا۔

پھر فرمایا: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟

انصار میں سے ایک نوجوان آیا اور کہنے لگا کہ

یہ میرا ہے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس

جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے

جو اللہ نے تمہارے قبضے میں دیا ہے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے

کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس پر بھاری بھرکم بوجھ ڈالتے ہو

جس سے تھکاوٹ ہو جاتی ہے۔”

You May Also Like: The One Sheet For Prophet(S.W)

You May Also Like:The Young Mans And Fear Of Allah

Leave a Reply

Your email address will not be published.