حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی ولادت 

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی ولادت 

The Birth of the Holy Lady Fatima Masooma 

 

The Birth of the Holy Lady Fatemah Ma'soomah

ہمارے ساتویں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت  کے بعدان کے بیٹے

اور ہمارے آٹھویں امام علی رضا علیہ السلام نے اپنے خاندان اور بہنوں کی

دیکھ بھال کی۔ بی بی فاطمہ معصومہ اپنے بھائی سے بے پناہ محبت کرتی تھیں

جیسے بی بی زینب (س) کی اپنے بھائی امام حسین (ع) سے محبت۔200ھ میں

عباسی خلیفہ مامون رشید نے امام علی رضا علیہ السلام کو مدینہ سے خراسان بلایا

اور خاندان کے کسی فرد کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بی بی فاطمہ معصومہ اپنے بھائی کو بہت یاد کرتی تھیں اور مدینہ سے خراسان ایران

کے لیے روانہ ہوئیں جب وہ ساوا پہنچی تو اسے اپنے بھائی کی شہادت کی خبر ملی۔

یہ جان کر وہ سخت بیمار ہوگئیں اور قم لے جانے کو کہا اس کے بھائی کی موت

کے چند ہی دنوں میں وہ مر گئی آپ کو 8 ربیع الاول 201 ہجری کو قم میں دفن کیا گیا۔

وفات کے وقت ان کی عمر صرف 22 سال تھی لوگ دنیا کے کونے کونے سے

ان کی قبر پر آتے ہیں اور ان کی خواہشات پوری کرتے ہیں۔

 

 بی بی فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہایوم ولادت

 

ذی القعدہ کے اسلامی مہینے کا آغاز کا یوم ولادت ہے۔بی بی فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا

وہ مدینہ کے مقدس شہر میں پیدا ہوئی  مقدس گھرانہ ایک نوزائیدہ کی آمد کا انتظار کر رہا تھا۔

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے گھر میں  عزاداری امام کی اہلیہ نجمہ بچے کی آمد کی بے تابی

سے منتظر تھیں وہ اس خاص دن کے لیے دن اور راتیں گن رہی تھی امام کے گھر میں

خوشی اور مسرت چھا گئی آخرکار وہ دن آ پہنچا یکم ذی القعدہ 173ھ کو جب اللہ تعالیٰ

نے ہمارے ساتویں امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کو بیٹی سے نوازا اس بچے کی شکل

نفیس اور خوش شکل تھی اور اس نے اپنی پاکیزہ روشن آنکھیں اس دنیا میں امام کے

گھر میں کھولیں۔

گھر کے تمام افراد نومولود کی خوشی میں بالکل خوش تھے اور امام کے بعد شاید ان کی

اہلیہ نجمہ جیسی خوشی کوئی نہ تھی اس لیے کہ یہ دوسرا بچہ تھا جو اللہ کے فضل سے

نجمہ کو 25 سال بعد عطا ہوا 25 سال قبل اسی ماہ ذی القعدہ میں نجمہ نے ایک بچے

کو جنم دیا تھا جو اپنے والد کے بعد امام بننے والا تھا اور مسلمانوں کی امامت اور

رہنمائی کی ذمہ داری اس کے کندھے پر ڈالنا تھاجی ہاں یہ 148ھ تھا جب آٹھ

امام علی علیہ السلام پیدا ہوئے اور جن کو ردا کا لقب دیا گیا نجمہ کو اپنی پہلی اولاد

میں بے حد خوشی ملی اور برسوں بعد خدا نے اسے اور ان کے شوہر موسیٰ کاظم (ع)

کو امام رضا (ع) کی ایک بیٹی اور ایک بہن سے نوازا۔

 

فاطمہ کی پاکیزگی

 

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے اپنی نانی حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے

ساتھ محبت اور خصوصی لگاؤ ​​کی وجہ سے اپنی بیٹی کا نام فاطمہ رکھا۔ فاطمہ کی پاکیزگی،

حیا اور پرہیزگاری ایسی تھی کہ کچھ عرصہ بعد انہیں “معصومہ” کہا جانے لگا۔

اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے والد محترم کی طرح تمام برائیوں اور گناہوں سے دور رہتی تھیں۔

فاطمہ ایک ایسا نام تھا جو اہل بیت میں یاد کیا جاتا تھا جس کے پاس

بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہا کی زندگی کی سینکڑوں غمگین اور میٹھی یادیں تھیں۔

فاطمہ معصومہ نے اس غم کو دیکھا اور ان سے کاغذات لے کر ان کے سوالات

کے جوابات دیئے۔ مسلمان خوش ہو کر چلے گئے۔ مدینہ کے مضافات میں ان کی

ملاقات امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے ہوئی اور انہوں نے آپ کو ان کے گھر

میں ہونے والے تمام واقعات سے آگاہ کیا۔ امام نے اپنی بیٹی کے جوابات پڑھنے

کو کہا اور پڑھ کر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تعریف کی اور مختصر جملے میں

فرمایا کہ اس کا باپ اس پر قربان ہو۔

 

You May Also Like: Palace Of Lady Tunshuq’s

 

You May Also Like: imam Musa Kazim(a.s) Story

Leave a Reply

Your email address will not be published.