حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور نیل کی دلہن کی کہانی

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور نیل کی دلہن کی کہانی

Story Of  The Umar RA and Bride of the Nile

 

مصر کا ایک رواج تھا کہ لوگ ہر سال ایک نوجوان لڑکی کو

دریا میں پھینک دیتے تھے عمرو بن العاص اس علاقے کا مقرر کردہ گورنر تھا۔

جب عمرو بن العاص نے اس رسم پر اعتراض کیا تو لوگوں نے

اس سے کہااے گورنر ہماری مرضی کا یہ نیل نہیں بہے گا۔

اس نے پوچھا کیا مطلب؟ کہنے لگے جب اس مہینے کی بارہویں آتی ہے

تو ہم ایک کنواری لڑکی کو ڈھونڈتے ہیں جو ابھی تک اپنے والدین کے پاس ہے

اور ہم اس کے والدین سے معاہدہ کرتے ہیں

 

 دریائے نیل 

 

پھر اسے بہترین زیورات اور کپڑے پہنا کر اس دریائے نیل میں پھینک دیتے ہیں۔

عمرو نے ان سے کہا اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے کیونکہ

اسلام اپنے سے پہلے کی چیزوں کو مٹا دیتا ہے کچھ دیر تک دریائے نیل بالکل نہ بہا

اور لوگوں نے ہجرت کرنے کا سوچا۔

پھر عمرو نے عمر بن الخطاب کو خط لکھا اور اس کی خبر دی۔

اس نے واپس لکھا کہ تم نے ٹھیک کیا ہے۔

میں نے تمہیں اس خط میں ایک کاغذ بھیجا ہے اسے دریائے نیل میں پھینک دو۔

جب اس کا خط آیا تو عمرو نے کاغذ کا وہ ٹکڑا نکالا جس پر بندے اللہ

اور امیر المومنین کی طرف سے مصر کے دریائے نیل تک لکھا تھا۔

اگر بہنے کا فیصلہ آپ پر ہے تو بہتے نہ جانا ہمیں آپ کی کوئی ضرورت نہیں۔

لیکن اگر آپ اللہ کے حکم سے بہتے ہیں جو آپ کو بہانے والا ہے

تو ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ کو بہائے۔

اس نے کاغذ کا ٹکڑا دریائے نیل میں پھینک دیا اور جب وہ

ہفتہ کے دن بیدار ہوئے تو دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی رات میں

دریائے نیل کو سولہ ہاتھ کی گہرائی میں بہا دیا ہے۔

اس طرح اللہ تعالیٰ نے مصریوں کی اس بری رسم کو ختم کر دیا۔

 

 البدایہ و النہایہ (7/102-103) 

 

علی طنطاوی نے کہا کہ ہم نے اسے اس لیے شائع کیا ہے کہ یہ اتنا مشہور ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔

عمر رضی اللہ عنہ نے کاغذ کے اس ٹکڑے میں توحید کا مفہوم بیان کیا

اور بتایا کہ دریائے نیل اللہ کی مرضی اور حکم سے بہتا ہے۔

اس نے لوگوں پر ان کے عقیدے کی جھوٹی بات ثابت کر دی

جو ان کے دلوں میں بہت گہرا تھا اس نے اپنے دانشمندانہ عمل سے

اس عقیدہ کو مصریوں کے دلوں سے مٹا دیا [فن الحکم ص 347]

You May also Like: Prophet Lut(PBUH) Story

Leave a Reply

Your email address will not be published.