محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی الٰہی کی کہانی

محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی الٰہی کی کہانی

The Story Of Revelation Divine On Muhammad(s.w)

The Story Of Revelation Divine On Muhammad(s.w)

 

عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا

 اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کے مطابق اجر ملے گا

پس جس نے دنیاوی فائدے کے لیے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے

ہجرت کی تو اس کی ہجرت کس چیز کے لیے تھی؟ اس نے ہجرت کی تھی۔

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا(مومنین کی والدہ) حارث بن ہشام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر وحی کیسے نازل ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کہ بعض اوقات یہ (ظاہر) گھنٹی کے بجنے کی طرح ہوتا ہے، الہام کی یہ صورت

سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے اور پھر یہ کیفیت اس الہام کو پکڑ لینے کے بعد ختم ہو جاتی ہے

 کبھی کبھی فرشتہ آتا ہے۔ ایک آدمی کا روپ دھارتا ہے اور مجھ سے بات کرتا ہے

اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے سمجھ لیتا ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مزید کہا کہ میں نے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت سردی کے دن الہام ہوتے دیکھا اور آپ کی پیشانی سے پسینہ گرتے دیکھا۔

 

جابر بن عبداللہ الانصاری

 

جابر بن عبداللہ الانصاری (وحی کے وقفے کی مدت کے بارے میں بات کرتے ہوئے)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر کی روایت کرتے ہیں میں چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان

سے ایک آواز سنی میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ دیکھا جو غار حرا میں مجھ سے ملنے آیا تھا

آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے بارے میں کہا اور گھر واپس آیا

اور کہا کہ مجھے (کمبل میں) لپیٹ دو۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل مقدس آیات (قرآن کی) نازل فرمائیں

اے آپ (یعنی محمدﷺ) کپڑوں میں لپٹے ہوئے!’ اٹھو اور خبردار کرو (لوگوں کو اللہ کے عذاب سے)

تک اور بتوں کو چھوڑ دو’۔ (74.1-5) اس کے بعد وحی بہت زور سے، متواتر اور باقاعدگی سے آنے لگی۔

 

You May Also Like: The Story Of Sahabi Abdullah Bin Abbas

سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ روایت

 

سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے

اس فرمان کی وضاحت میں فرماتے ہیں: اپنی زبان (قرآن) کے بارے میں جلدی نہ کرو۔ (75.16)

کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کو بڑی تکلیف کے ساتھ اٹھاتے تھے

اور الہام کے ساتھ اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی

اور کہا کہ میں آپ کے سامنے اپنے ہونٹوں کو اس طرح حرکت دیتا ہوں جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے۔ سعید نے اپنے ہونٹ ہلائے اور کہا: “میں اپنے ہونٹوں کو ہلا رہا ہوں

جیسا کہ میں نے ابن عباس کو اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے ہوئے دیکھا ہے۔” ابن عباس رضی اللہ عنہ نے

مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا کہ اپنی زبان (قرآن) کے بارے میں جلد بازی میں نہ چلو، اس کو جمع کرنا

اور آپ کو اس (قرآن) کی تلاوت کی توفیق دینا ہمارے ذمہ ہے۔ (75.16-17) جس کا مطلب یہ ہے

کہ اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن کا وہ حصہ جو اس وقت نازل ہوا تھا اسے دل سے یاد کرائے گا

اور اس کی تلاوت کرے گا۔ آپ (اے محمد جبرائیل کے ذریعے) پھر آپ اس

(قرآن) کی تلاوت پر عمل کریں (75.18) کا مطلب ہے اسے سنو اور خاموش رہو۔

 

جبرائیل علیہ السلام

 

پھر یہ ہمارے (اللہ کا) کام ہے کہ وہ تم پر اسے واضح کردے۔ (75.19) یعنی پھر یہ (اللہ کا) کام ہے

کہ وہ تمہیں اس کی تلاوت کرائے (اور اس کا مطلب آپ کی زبان سے خود ہی واضح ہوجائے گا)

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام

کو جب بھی تشریف لاتے تھے سنتے تھے اور ان کے جانے کے بعد اسی طرح پڑھتے تھے

جیسے جبرائیل علیہ السلام نے پڑھا تھا۔

 

You May Also Like: The Story Of Sahabi Zaid bin Thabit(r.a)

Leave a Reply

Your email address will not be published.