حضرت شعیب علیہ السلام کا قصہ

حضرت شعیب علیہ السلام کا قصہ

Story Of The Prophet Shoaib (A.S)

 

Story Of The Prophet Shoaib (A.S)

 

شعیب کے خاندانی پس منظر کے بارے میں مختلف آراء ہیں بعض کا خیال ہے۔

کہ وہ نوبہ کے بیٹے تھے جو حضرت ابراہیم کے بیٹے تھے بعض کا عقیدہ تھا کہ ان کے

والد کا نام بویاب تھا جبکہ بعض نے کہا کہ وہ میکیل کا بیٹا تھا جو یوسیب بن ابراہیم کے

بیٹے تھے اور ان کی میکیل کی والدہ حضرت لوط کی بیٹی تھیں۔ بعض نے کہا کہ شعیب

کا نام شیرون تھا اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے خاندان سے تعلق رکھنے والے

سیکون یا انکا یا ‘ثابت کے بیٹے تھے جبکہ دوسروں کا خیال ہے کہ ان کا تعلق حضرت ابراہیم

کے خاندان سے نہیں ہے لیکن ان کے والد نے حضرت ابراہیم کے وقت اسلام قبول کیا تھا۔

 

سورۃ الاعراف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

 

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا اس نے کہا اے میری قوم

اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بیشک تمہارے پاس تمہارے

رب کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے لہٰذا ناپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کے لیے

ان کی چیزوں میں کمی نہ کرواور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو۔

یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو

اور ہر راستے پر تاک میں نہ پڑو ڈراتے ہوئے اور اللہ کے راستے سے منہ موڑنے والے کو

جو اس پر ایمان لاتا ہے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے اور یاد کرو جب تم تھوڑے تھے۔

تو اس نے تمہیں بڑھا دیا اور دیکھو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیا ہوا

اور اگر تم میں سے ایک جماعت اس پر ایمان لاتی ہے جس کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور

دوسرا گروہ ایمان نہیں لاتا تو صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے۔

اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

 

پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا اور فرمایا اے میری قوم! یقیناً میں نے تمہیں

اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے تھے اور میں نے تمہیں اچھی نصیحت کی تھی پھر میں ایک کافر

قوم پر افسوس کیسے کروں

اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا لیکن ہم نے وہاں کے رہنے والوں کو تنگی

اور مصیبت میں ڈالا تاکہ وہ عاجزی کریں۔ (7:85-94) 26:32-41 میں

حضرت شعیب علیہ السلام نے صحرا کے باشندوں سے کہا

کیا تم اللہ کے عذاب سے نہیں ڈرتے اللہ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے اور میں تمہارا نبی ہوں۔

اللہ نے مجھے جو حکم دیا ہے اسے سنو۔ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے اللہ مجھے میرے اعمال

کا بدلہ دے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: چیزوں کو تولنے میں اور ان کے سامان کو واپس کرنے

میں بھی عدل و انصاف کرو لوگوں میں جھگڑے اور پریشانیاں پیدا نہ کرو اور اللہ سے ڈرو

کیونکہ وہ دنیا کا عظیم خالق ہے جنگل کے رہنے والوں نے کہا کہ شعیب کالے جادو سے

متاثر ہو کر دیوانہ ہو گیا ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بھی ان جیسا انسان تھا اور بڑا جھوٹا تھا۔

انہوں نے کہا اگر آپ واقعی سچے نبی ہیں تو اللہ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آسمان کے چند ٹکڑے

بھیج دے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ انہوں نے کیا کہا۔

لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور اس کی توہین کی تو اللہ نے ان پر بڑا عذاب نازل کیا۔

یہ ایک سخت عذاب تھا۔(26:3241)

 

شدید گرمی کا عذاب

 

جب انہوں نے شعیب کی توہین کی تو اللہ تعالیٰ نے شدید گرمی کا عذاب نازل کیا جس سے

وہ اور ان کے اہل خانہ متاثر ہوئے وہ خود کو بچانے کے لیے گھروں کے اندر چلے گئے

لیکن گرمی بھی ان کے ساتھ داخل ہوگئی گرمی اتنی شدید تھی کہ وہ برداشت نہ کر سکے۔

پھر اللہ نے سیاہ بادل کا ایک ٹکڑا بھیجا وہ سب بادل کے سائے میں بھاگے لیکن

پانی بارش کی بجائے ان پر آگ برسنے لگی اور زلزلہ شروع ہوگیا اور وہ سب آگ سے جل

کر خاکستر ہوگئے ان دونوں واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دو گروہوں

پر عذاب نازل کیا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا کفر کیا۔

 

امام علی ابن الحسین

 

اس کے لوگ چیزوں کو تولنے میں بہت ایماندار تھے اس کے بعد لوگ تولنے

میں بے ایمان ہو گئے انہوں نے کم تول کر دھوکہ دینا شروع کر دیا پھر اللہ نے

ان پر زلزلہ کے ذریعے لعنت بھیجی اور وہ تباہ ہو گئے۔

خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن حضرت شعیب علیہ السلام

اپنی امت کے ساتھ جنت میں داخل ہونے والے پہلے نبی ہوں گے جب ان کی قوم عذاب

سے تباہ ہو گئی تو حضرت شعیب علیہ السلام اپنے پیروکاروں کے ساتھ مکہ آئے اور اپنی موت

تک وہیں رہے شعیب مکہ میں ٹھہرے اور دوبارہ مدین چلے گئے اس وقت حضرت موسیٰ

ان سے ملنے آئے ابن عباس نے بیان کیا ہے کہ شعیب کی عمر 242 سال تھی جب ان کی وفات ہوئی۔

 

قوم کے سردار

 

اس کی قوم کے سرداروں نے جو مغرور تھے کہااے شعیب ہم تمہیں ضرور نکال دیں گے

اور تمہارے ساتھ ایمان والوں کو بھی ہماری بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم ہمارے

ایمان کی طرف لوٹ آؤ کہاکیا حالانکہ ہم اسے ناپسند کرتے ہیں

بے شک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اگر ہم تمہارے دین میں واپس چلے جائیں

اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دلائی ہے اور ہمیں یہ زیب نہیں دیتا

کہ ہم اس کی طرف لوٹ جائیں سوائے اس کے کہ ہمارا رب اللہ چاہے ہمارا رب ہر چیز پر قادر ہے۔

اس کے علم میں اللہ پر ہمارا بھروسہ ہے اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان

حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

اور اس کی قوم میں سے کافروں کے سرداروں نے کہا اگر تم شعیب کی پیروی کرو گے تو یقیناً

نقصان اٹھاؤ گے۔

 

You May Also Like: Prophet Yousaf (a.s) Story

Leave a Reply

Your email address will not be published.