حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ

The Story of the Prophet Musa (AS)

 

حضرت موسیٰ علیہ السلام قرآن مجید میں سب سے زیادہ ذکر کیے گئے نبی ہیں۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش فرعون کے زمانے میں ہوئی  دین اسلام میں

موسیٰ علیہ السلام سے محبت اور احترام کیا جاتا ہے کیونکہ وہ نبی اور رسول بھی ہیں۔

مسلمان اللہ تعالی کے تمام رسولوں اور ان پر نازل ہونے والی مقدس کتابوں پر ایمان

رکھتے تھےقرآن پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زیادہ تر ذکر کیا گیا ہے اور

ان کی کہانی قرآن پاک کے متعدد ابواب میں موجود ہے۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے رسول اس لیے بھیجے گئے

کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا پیغام اس دنیا کے لوگوں تک پہنچائے حضرت موسیٰ علیہ السلام

 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

 

کو بھی بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور ان پر نازل ہونے

والی مقدس کتاب تورات تھی قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’بے شک ہم نے موسیٰ

پر تورات نازل کی اس میں ہدایت اور روشنی تھی، جس کے ذریعے انبیاء کرام جنہوں نے

اپنے آپ کو خدا کی مرضی کے تابع کیا یہودیوں کا فیصلہ کیا اور ربیوں اور پادریوں نے بھی

تورات کے ذریعہ یہودیوں کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں خدا کی کتاب کی حفاظت سونپی گئی تھی اور

وہ اس کے گواہ تھے۔” (قرآن، 5:44)

قرآن میں موسیٰ (ع) اور فرعون

 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن میں موسیٰ (ع) اور فرعون کا قصہ حق ہے یہ سیاسی سازش

اور جبر کی کہانی ہے جس کی کوئی حد نہیں تھی قرآن پاک میں اس کا ذکر اس طرح ہے۔

ہم تم کو موسیٰ اور فرعون کی کچھ خبریں سچائی کے ساتھ ان لوگوں کے لیے سناتے ہیں۔

جو ایمان لائے۔ ’’بیشک فرعون نے زمین میں سربلندی کی اور وہاں کے لوگوں کو فرقے

بنا دیا اور ان میں سے ایک گروہ (یعنی بنی اسرائیل) کو کمزور کر دیا ان کے بیٹوں کو قتل کرنا

اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دینا بے شک وہ کبیرہ گناہوں اور جرائم کا ارتکاب کرنے

والوں میں سے تھا، ظالم، جابر”۔ (قرآن، 28:3-4)

 

You May Also Like:The Herdsman and Nabi Moosa(a.s) Story

You May Also Like:The Story Of First Fitna Of Bani Israil

Leave a Reply

Your email address will not be published.