حضرت ادریس علیہ السلام کا واقعہ

حضرت ادریس علیہ السلام کا واقعہ

Story of Prophet Idris (AS)

 

Story of Prophet Idris (AS)

حضرت ادریس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے نبی تھے اور ان

کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی قدیم نبی اور بزرگ کے طور پر کیا گیا ہے۔

قرآن مجید میں حضرت ادریس علیہ السلام کا تذکرہ ثقہ اورصبر کے طور پر کیا گیا ہے۔

قرآن میں ادریس (ع) کا ذکر حضرت آدم (ع) کی ابتدائی اولاد کے طور پر کیا گیا ہے۔

اور قرآن پاک میں مذکور سب سے قدیم پیغمبر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو ان کی بے مثال صلاحیتوں کی وجہ سے

آدم علیہ السلام اور نوح علیہ السلام کے درمیان رکھا۔

صحیح بخاری کی حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی رات

چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات کی اس حدیث کو

انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ادریس علیہ السلام اللہ کے نبی

ہونے کے ساتھ ساتھ تصوف اور فلسفی کی بھی وسعت رکھتے تھے۔

حضرت ادریس (ع) کے بیٹے متوسلح جو کہ نوح (ع) کے دادا تھے۔

 

ادریس کا مشن

 

آدم (ص) اور ان کے جانشین سیٹھ کی وفات کے بعدلوگ زمین پر اپنے مشن میں

اللہ (ص) کے الفاظ کو بھولنے لگے وہ لڑنے لگے اور شیطان کے راستے کی طرف

ہٹ گئے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو بھیجا جو

حضرت آدم علیہ السلام کی پانچویں پشت میں سے تھے بابل میں پیدا ہوئے اور

پلے بڑھے، ادریس کا مشن لوگوں کو واپس راستے پر لانا تھا۔ تاہم، بہت کم سنتے تھے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت ادریس علیہ السلام کو بابل سے مصر جانے کا حکم دیا۔

وہاں اس نے لوگوں کو منصفانہ ہونے اور وہ کام کرنے کو کہنے کے لیے اپنا مشن پورا کیا۔

اس نے انہیں نماز پڑھنے، مخصوص دنوں میں روزے رکھنے اور اپنی دولت کا کچھ حصہ

غریبوں کو دینے کا طریقہ سکھایا۔

ادریس (ع) بھی پہلے نبی تھے جنہوں نے صحیفے کی پہلی شکلیں ایجاد کیں۔

You May Also Like:Story OfThe Prophet Shees (a.s)

You May Also Like:Dua For Jealousy From Protection

Leave a Reply

Your email address will not be published.