حضرت داؤد علیہ السلام کا قصہ

حضرت داؤد علیہ السلام کا قصہ

Story Of The Prophet Dawood (A.S)

 

Story Of The Prophet Dawood (A.S)

حضرت داؤد علیہ السلام بنو اسرائیل کے صالح لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بہت کم عمری

میں بنو اسرائیل کی فوج میں شمولیت اختیار کی وہ ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے یروشلم

کے لوگوں کے ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حکم کے مطابق مقدس سرزمین پر قبضہ کرنے کے لیے

لڑنے پر اتفاق کیاحضرت داؤد علیہ السلام کو یہودی داؤد کے نام سے جانتے ہیں وہ 10ویں صدی

قبل مسیح میں یروشلم میں پیدا ہوئے دوسرے انبیاء کی طرح حضرت داؤد علیہ السلام بھی

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پیارے نبی تھے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو معجزاتی قوتیں اور زبردست

طاقت سے نوازا تھا۔ وہ وہی تھا جس نے زمین پر اللہ تعالیٰ کے قوانین کو قائم کیاحضرت

داؤد علیہ السلام کا تذکرہ مختلف روایات میں قرآن کی مختلف سورتوں میں ان کے نام سے 16 مرتبہ آیا ہے۔

داؤد علیہ السلام پر مقدس کتاب زبور نازل ہوئی۔

اور تیرا رب ان سب کو خوب جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور بے شک ہم نے

بعض انبیاء کو بعض پر فضیلت دی ہے اور داؤد کو ہم نے زبور عطا کی ہے (قرآن 17:55)

 

اللہ کی حمد

 

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو ایسی بہترین آواز عطا فرمائی جیسی کسی کے پاس نہیں تھی۔

اور جب بھی وہ زبور پڑھتے اور اللہ کی حمد کرتے تو تمام پرندے آپ کے گرد جمع ہو جاتے۔

اور اللہ کی حمد و ثنا میں شامل ہو جاتے اور یہاں تک کہ پودے اور پہاڑ بھی لطف اندوز ہوتے۔

اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں اس کے ساتھ شامل ہوتےقرآن میں ذکر ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ

فرماتا ہےہم نے واقعی پہاڑوں کو شام اور طلوع آفتاب کے بعد اس کے ساتھ اپنی حمد

کے لیے مسخر کر دیا (قرآن 38:18

اور پرندے جمع کیے گئے سب اس کے ساتھ تسبیح کرتے رہے (قرآن 38:19

حضرت داؤد علیہ السلام وہ پہلے شخص تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے لوہے سے ہتھیار اور زرہیں بنانے

میں مہارت دی تھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسے ایک ایسا معجزہ عطا کیا جس سے وہ اپنے ہاتھوں

میں لوہے کو پگھلا کر ہتھیاروں اور زرہ بکتر میں ڈھال سکتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے سورہ سبا میں فرمایا اور یقیناً ہم نے داؤد کو اپنی طرف سے فضل دیا اور کہا

اے پہاڑو! اس کے ساتھ ہماری تسبیح کرو اور پرندے بھی اور ہم نے اس کے لیے

لوہا نرم کر دیا یہ کہہ کر کہ چوڑی دار چادریں بناؤ اور کڑیوں کو اچھی طرح ناپ لو اور نیک عمل

کرو جو کچھ تم کرتے ہو یقیناً میں اسے دیکھنے والا ہوں۔ (قرآن 34:1011

حضرت داؤد علیہ السلام راتوں کو نماز پڑھتے تھے اور ہر باری باری روزے رکھتے تھے۔

اس نے اپنی رات کو نماز اور نیند کے حصوں میں تقسیم کیا۔

 

حدیث بخاری 

 

ایک صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللہ سبحانہ وتعالیٰ

کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داؤد کی نماز ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک صوم (روزہ)

میں سب سے زیادہ محبوب صوم داؤد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا پہلا حصہ سوتے تھے۔

اور اس کے ایک تہائی حصے پر نماز پڑھتے تھے اور چھٹا حصہ دوبارہ سوتے تھے اور متبادل دنوں

میں روزہ رکھا کرتا تھا اور جب اس کا کسی دشمن سے سامنا ہوا تو وہ کبھی نہیں بھاگا۔ (بخاری)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اسے پرندوں اور جانوروں کی زبان سمجھنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی تھی۔

حضرت داؤد علیہ السلام کی طاقت اور حکمت کا تذکرہ قرآن پاک میں مختلف روایات کے ذریعے کیا گیا ہے۔

بہت چھوٹی عمر میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سامنے ان کی طاقت اور سر تسلیم خم کرنے کا ایک واقعہ

قرآن مجید میں سورہ بقرہ میں مذکور ہے۔

چنانچہ انہوں نے اللہ کے حکم سے ان کو شکست دی اور داؤد نے جالوت کو قتل کر دیا۔

اور اللہ نے اسے بادشاہی اور حکمت یعنی نبوت عطا کی اور جو کچھ وہ چاہا سکھایا۔

اور اگر اللہ کچھ لوگوں کو دوسروں کے ذریعے جانچنے والا نہ ہوتا تو زمین میں فساد ہو جاتا

لیکن اللہ تمام جہانوں پر فضل کرنے والا ہے۔ (قرآن 2:251

 

خوفناک ظالم جالوت

 

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل انتہائی بد اخلاق اور کافر ہو گئے۔

انہیں ان کی نافرمانی اور ضد کا احساس دلانے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی یاد دلانے

کے لیےاللہ سبحانہ و تعالیٰ  نے ایک بدترین اور خوفناک ظالم کو جالوت (جالوت) نامی

اپنا سربراہ مقرر کر کے انہیں آزمائش میں ڈال دیا بنو اسرائیل جالوت کی سلطنت میں

ذلت اور مسلسل جنگوں اور شکستوں سے تھک چکے تھے۔

کئی سالوں کی آزمائشوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے طالوت کو بنو اسرائیل کا بادشاہ منتخب کیا۔

طالوت ایک کسان تھا اور وہ فرمانبردار مضبوط اور عقلمند آدمی تھا۔

طالوت کے پاس اپنی فوج میں بہت ہی محدود افراد اور ہتھیار تھے تاہم جالوت کے پاس

ایک بہت بڑی مضبوط اور پوری طرح سے لیس فوج تھی دونوں فوجیں لڑنے کے لیے

تیار تھیں بنو اسرائیل جالوت کی فوج کا حجم دیکھ کر گھبرا گئے۔

حضرت داؤد علیہ السلام نے فلسطین پر 40 سال امن اور ہم آہنگی کے ساتھ حکومت کی۔

اس نے 7 سال ہیبرون میں اور 33 سال القدس (یروشلم) میں گزارے۔

 

مسجد اقصیٰ کی تعمیر نو

 

حضرت داؤد علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر نو شروع کی جو کہ کھنڈرات میں پڑی ہوئی تھی۔

اور یہ ایک بہت بڑا منصوبہ تھا تاہم وہ اسے مکمل نہ کر سکے اور انتقال کر گئے۔

بعد میں آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام نے مسجد اقصیٰ کی تعمیر نو مکمل کی۔

حضرت داؤد علیہ السلام سو سال زندہ رہے۔

You May Also Like:Battle Of The Khandaq Story

You May Also Like:Shoaib Abi Talib History Valley

Leave a Reply

Your email address will not be published.