بدر کی کہانی

بدر کی کہانی

The Story Of  Badr

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت نے مکہ کے

دشمنوں کو مزید دشمنی سے دوچار کر دیا تھا اور وہ مسلسل یہ سوچتے رہے

کہ کس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تختہ الٹ سکتے ہیں اور اسلام کو ختم کر سکتے ہیں۔

مکہ والوں اور ان کے اتحادیوں نے مدینہ کے بالکل مضافات میں اپنے چھاپے

مارنے شروع کر دیے، مسلمانوں کے پھل دار درختوں کو تباہ کر دیا اور ان کے ریوڑ کو لے گئے۔

چنانچہ جنگ بدر اسلام کی عظیم ترین اور مشہور ترین معرکوں میں سے ایک ہے۔

پہلی بار نئے عقیدے کے پیروکاروں کو ایک سنگین امتحان میں ڈالا گیا۔

یہ اسلام کے ابتدائی ایام میں ایک اہم جنگ تھی اور یہ اسلام کی اپنے جابر مخالفین،

ان میں سے مکہ میں قریش کے ساتھ جدوجہد میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔

اور اس میں شرکت کرنے والوں کو مسلمانوں میں ایک خاص امتیاز حاصل تھا۔

بدر کا لفظ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح عمری میں ان لوگوں کے لیے

استعمال ہوا ہے جو جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔

ہجرت کے دوسرے سال جمادی الاول کے وسط میں مدینہ میں اطلاع ملی

کہ ابو سفیان کی قیادت میں ایک قافلہ مکہ سے شام کی طرف جا رہا ہے

غزوہ عشیرہ

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ عشیرہ کا تعاقب کیا۔

کارواں اور اگلے مہینے کے شروع تک وہیں رہے لیکن اس پر ہاتھ نہ ڈال سکے۔

تمام جنگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پالیسی اختیار کی

ان میں سے ایک قابل تعریف پالیسی یہ تھی کہ آپ دشمن کی طاقت

اور اس کے محل وقوع کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے تھے۔

موصول ہونے والی معلومات حسب ذیل تھیں۔

یہ ایک بڑا قافلہ ہے اور اس کی تجارت میں تمام مکہ والوں کا حصہ ہے۔

قافلہ کا سردار ابو سفیان ہے اور اس کی حفاظت کرنے والے چالیس کے قریب ہیں۔

سامانِ تجارت ایک ہزار اونٹوں پر لدا ہوا ہے اور اس کی قیمت تقریباً پچاس ہزار دینار ہے۔

جیسا کہ قریش نے مدینہ میں رہنے والے مسلمان مہاجروں کی جائیداد ضبط کر لی تھی

اس لیے یہی مناسب تھا کہ مسلمان بھی ان کا سامانِ تجارت ضبط کر لیں

اور اگر مہاجر مسلمانوں کی دشمنی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کی املاک کو

روکنے پر اڑے رہیں تو مسلمانوں کوجیسا کہ کرنا چاہیے۔

ایک انتقامی اقدامجنگی مال کے طور پر ان کا مال آپس میں تقسیم کر لیں۔

رمضان کا مہینہ

ہجرت کے دوسرے سال رمضان کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 313 آدمیوں

کے ساتھ بدر کے کنویں کے کنارے پڑی قریش کی جائیداد کو ضبط کرنے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مٹی اٹھائی اور قریش کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا

 تمہارے چہرے بدل جائیں اس کے بعد اس نے عام حملے کا حکم دیا۔

اللہ تعالیٰ نے بدر میں تمہاری مدد کی تھی جب کہ تم ایک حقیر طاقت تھے

پھر اللہ سے ڈرو تاکہ شکر ادا کروجب آپ نے اہل ایمان سے کہا تھا

 کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا خالق تین ہزار فرشتوں

سے تمہاری مدد کرے۔سورہ آل عمران 3:123-124

 

You May Also Like:Story Of Shaban al-Moazzam

You May Also Like:The Prophet Dhul-Kifl Story

Leave a Reply

Your email address will not be published.