واقعہ امام حسن عسکری علیہ السلام

واقعہ امام حسن عسکری علیہ السلام

Story Imam Hassan Askari (AS)

 

story Imam Hassan Askari (as)

اہل بیت (ع) جو ظاہری اور غیب کی سب سے زیادہ حکمت اور علم رکھتے ہیں

وہ ہیں جو سب سے زیادہ اللہ سے ڈرتے ہیں اور اپنی زندگی کا ہر لمحہ اہم ترین

موضوعات پر غور و فکر کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔

علماء نے لکھا ہے کہ ایک دفعہ ہمارے گیارہویں امام امام حسن عسکری علیہ السلام

جو ابھی بچے ہی تھے کچھ دوسرے بچوں کے درمیان کھڑے تھے جو کھیل رہے تھے۔

اور مزے کر رہے تھے اچانک ایک عاشق اہل بیت(ع) کا گزر ہوا لیکن وہ اس

منظر کے ساتھ پھنس گیا کہ سارے بچے کھیل رہے تھے لیکن ایک خوبصورت بچہ اکیلا

کھڑا رو رہا تھا اس نے فیصلہ کیا کہ اس بچے کے پاس جا کر پوچھیں کہ کیا غلط ہے۔

شاید وہ اس کی مدد کر سکے اس نے کہامیرے پیارے، کیا آپ اس لیے رو رہے ہیں۔

کہ آپ کے پاس دوسرے بچوں کے پاس کھلونے نہیں ہیں اگر آپ چاہیں تو میں آپ

کے لیے کچھ کھلونے لا سکتا ہوں امام حسن عسکری علیہ السلام نے جواب دیاکیا تم

سمجھتے ہو کہ میں کھلونوں کے لیے رو رہا ہوں؟ ہم کھلونوں سے کھیلنے اور تفریح ​​کرنے

کے لیے نہیں بنائے گئے ہیں بلکہ اللہ کی عبادت اور علم حاصل کرنے کے لیے پیدا

کیے گئے ہیں یہ عاشق اہل بیت (ع) جیسا کہ) نے اس سے پوچھا کہ آپ کو اس کے

بارے میں کیسے یقین ہے تو نوجوان امام حسن عسکری علیہ السلام نے جواب دیا

کیا آپ نے قرآن کریم کی وہ آیت نہیں پڑھی جو ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ

کیا پھر تم نے یہ خیال کیا کہ ہم نے تمہیں بیکار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف

لوٹ کر نہیں جاؤ گے (نوبل قرآن 23:115)

 

ایک عاشق اہل بیت

 

یہ عاشق اہل بیت علیہم السلام اس جواب سے متاثر ہوئے اور فرمایا

لیکن تم اتنی کم عمری میں کیوں پریشان ہو رہے ہو تم نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے

امام حسن عسکری علیہ السلام نے جواب دیا عمر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

 میں ہر روز اپنی ماں کو دیکھتا ہوں جب وہ بڑی ٹہنیوں کو آگ لگاتی ہیں تو وہ سب

سے پہلے چھوٹی کو استعمال کرتی ہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس دنیا کے چھوٹے بچوں

کو جہنم کی آگ جلانے کے لیے استعمال نہ کر دیا جائے۔ اللہ اکبر

امام حسن عسکری علیہ السلام جو ایک معصوم شخصیت اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے

حجت ہیں، بہت گہرائی سے سوچتے ہیں یہ جواب ان کے پیروکاروں کے لیے صرف

غور و فکر کرنے کا ایک سبق تھا امام حسن عسکری علیہ السلام کی یہ دلکش کہانی ہم

سب کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے۔

 

فلسفی اسحاق الکندی

 

ہمارے گیارہویں امام امام حسن عسکری علیہ السلام نے 28 سال کی

مختصر زندگی گزاری اس مختصر سی زندگی میں امام حسن عسکری علیہ السلام

کو عباسی خلفاء کے ہاتھوں بڑی مصیبتیں جھیلنی پڑیں لیکن سامرا، عراق

میں ان تمام مصائب اور قید کے باوجود بہت سے طلباء نے اس کے خدا

کے عطا کردہ علم سے استفادہ کیا اور بعد میں اپنے شعبوں میں عالم بن گئے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام نے  اس زمانے کے نادانوں کے ساتھ خدا

کے وجود اور انبیاء و ائمہ کی ضرورت کے اسباب کے بارے میں کئی بار بحث

کی اور بہت سے ملحدین نے اپنا ذہن بدل کر اسلام قبول کیا۔

ان میں سے ایک اسحاق الکندی تھے یہ شخص عراق کا بہت بڑا فلسفی تھا۔

اس نے نوبل قرآن کی ایسی آیات جمع کیں جن کے معانی بظاہر متضاد تھے۔

 ایک کتاب میں جسے “خود تضادات” کہا جاتا ہے۔ وہ اس سے ثابت کرنا چاہتا تھا۔

کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے۔

جب یہ خبر امام حسن عسکری علیہ السلام تک پہنچی تو وہ اس کی تردید کے موقع کا انتظار

کرنے لگے ایک دن اتفاق سے آپ کے چند شاگرد امام حسن عسکری علیہ السلام کے پاس آئے۔

 

ان کے شاگرد

 

امام حسن عسکری علیہ السلام نے ان سے پوچھا کیا تم میں کوئی ہے۔

جو اسحاق الکندی کو قرآن کے خلاف لڑنے کی اس فضول کوشش میں

اپنا وقت ضائع کرنے سے روک سکے طلباء نے کہا جناب  ہم ان

کے شاگرد ہیں ہم ان کی تعلیم پر اعتراض کیسے کر سکتے ہیں۔

 امام حسن عسکری علیہ السلام نے تاکید کی کہ وہ کم از کم اپنے استاد کو جو کچھ

بتانا چاہتے ہیں اسے پہنچا دیں انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس سلسلے میں ہر ممکن

تعاون کے لیے تیار ہیں۔

امام حسن عسکری علیہ السلام سے استفادہ کرنے میں اسحاق الکندی اکیلے نہیں تھے۔

ان کے بحر علم سے کئی بلند پایہ علماء نے استفادہ کیا بہت سے دوسرے ایسے بھی تھے۔

جو بعد میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے ساتھ رابطے میں آنے کے بعد ممتاز

سائنسدانوں، فقہا، مفسرین، فقیہ اور مختلف شعبوں کے ماہر بن گئے۔

 

You May Also Like: Story Of Imam Hasan (a.s.)

 

You May Also Like: Excellence Of Hasnain al-Kareemain

Leave a Reply

Your email address will not be published.