قصہ امام حسن علیہ السلام

قصہ امام حسن علیہ السلام

Story Of Imam Hasan (a.s.)

 

Story Of Imam Hasan (a.s.)

امام حسن (ع) کی ولادت 15 رمضان المبارک 3 ہجری میں ہوئی اس کا نام

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک وحی کے ذریعے پیغمبر اکرم (ص) کو تجویز کیا تھا جس

میں یہ تجویز کیا گیا تھا کہ چونکہ امام علی (ع) پیغمبر اکرم (ص) کے لئے ہیں جیسا کہ

حضرت ہارون (ع) حضرت موسیٰ (ع) کے لئے تھے اس کے بچے کا نام

حضرت ہارون علیہ السلام کے بیٹے کے نام پر ہونا چاہیے جو شبر تھا یعنی عربی

میں حسن کے معنی ہیں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی بچے کا نام حسن رکھا گیا۔

 

امام حسن علیہ السلام اور علم

 

امام حسن علیہ السلام کو دیگر تمام ائمہ کی طرح اللہ تعالیٰ نے علم الہی عطا کیا تھا

اور آپ نے بچپن ہی سے اس کا مظاہرہ کیا تھا۔ایک دفعہ امام حسن علیہ السلام

سے پوچھا گیا کہ وہ دس مضبوط چیزیں کون سی ہیں جو ایک دوسرے سے

زیادہ مضبوط ہیں امام حسن علیہ السلام نے جواب دیا۔

مضبوط چیزوں میں پتھر ہے۔

اس سے بھی زیادہ مضبوط لوہا ہے جو پتھر کو توڑنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

آگ اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے جو لوہے کو پگھلا دیتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے پانی جو آگ کو بجھا دیتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ طاقتور بادل ہیں جو اپنے ساتھ پانی لے جاتے ہیں۔

ہوا اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے جو اپنے ساتھ بادلوں کو تیرتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ طاقتور فرشتہ ہے جو ہوا کو حرکت دیتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ طاقتور فرشتہ ہے جو ہوا کو حرکت دینے والے فرشتے کو موت دے گا۔

اس سے بھی زیادہ طاقتور موت ہے جو موت کے فرشتے پر آئے گی۔ اور

اللہ عزوجل کا حکم اس سے بھی زیادہ مضبوط ہے جو موت پر حکومت کرتا ہے۔

 

روم کے بادشاہ

 

ایک دفعہ روم کے حاکم نے امام حسن علیہ السلام سے پوچھا وہ کون سی مخلوق ہیں جو ماں

اور باپ کے بغیر پیدا ہوئیں یا مرد و عورت؟ اور امام حسن علیہ السلام نے جواب دیا۔

یہ 7 مخلوقات ہیں حضرت آدم (ع)، حضرت حوا (ع)، وہ برّہ جو حضرت اسماعیل (ع)

کی جگہ بھیجی گئی، حضرت صالح (ع) کی اونٹنی، حضرت موسیٰ (ع) کا سانپ، ابلیس۔

اور وہ کوا جس نے حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل کو تدفین کا طریقہ سکھایا۔

 

امام حسن علیہ السلام کی شان میں دو احادیث

 

 احمد بن حنبل، ترمذی، نسائی اور ابن حبان نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن (ع) اور حسین (ع)  جنت کے

جوانوں کی سردار ہیں اور فاطمہ (س) جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔

ترمذی اور ابن حبان نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حسن (ع) اور حسین (ع) میرے اور

میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے

محبت کرتا ہے اور جو ان سے محبت کرتا ہے تو اس سے محبت کرتا ہے۔

 

امام حسن علیہ السلام کی زندگی کے دوران اور بعد کے مسائل

 

دوسرے امام (ع) کی طرح امام حسن کی زندگی بھی مشکلات سے بھری ہوئی تھی۔

بچپن ہی سے اس نے پیغمبر اسلام (ص) کے نام نہاد اصحاب کے چہرے اور سرگرمیاں

دیکھیں جنہوں نے انہیں کئی میدان جنگ میں تنہا چھوڑ دیا جنہوں نے پیغمبر اسلام (ص)

کے فیصلوں پر اس مرحلے تک اعتراض کیا کہ ان میں سے بعض نے ان کا اظہار کیا۔

شک ہے کہ وہ اللہ کے نبی تھے۔

You May Also Like:Death Of Prophet Sulaiman

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.