عمر رضی اللہ عنہ اور رومی سفیر کی کہانی

حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور رومی سفیر کی کہانی

Story of  Hazrat Umar(r.a) And The Roman Ambassador

 

جب ووٹ کی طاقت ہمارے ہاتھ میں ہوتی ہے تو ہم کبھی کبھی محسوس کرتے ہیں

کہ کوئی اچھا انتخاب نہیں ہے۔ مجھے عمر رضی اللہ عنہ اور رومی ایلچی کی یہ کہانی نظر آئی

اور میں نے اسے شیئر کرنا مناسب سمجھا .امت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

اور صحابہ کرام جیسی قائدانہ خصوصیات کے حامل رہنما پیدا کرنے کی ضرورت ہے 

ایک دفعہ شہنشاہ روم کا سفیر بہت سے تحائف لے کر مدینہ آیا۔

مدینہ پہنچ کر لوگوں سے دریافت کیا کہ مدینہ کے بادشاہ کا محل کہاں ہے۔

لوگوں نے جواب دیا ہمارے بادشاہ کا کوئی محل نہیں ہے۔

البتہ ہمارے قائد، مومنین کے رہبر کی ایک حویلی ہے یعنی اس کی عزت نفس جس کا اللہ

سے خاص تعلق ہے اور جو اس کے قرب کی شان سے منور ہوا ہے۔

اس طرح اس نے اسے شاہی محلات کی ضرورت سے آزاد کر دیا ہے۔

انہوں نے اسے مزید بتایا تم اہل ایمان کے سردار حضرت عمر کو مدینہ کے قبرستان میں پاؤ گے۔

 رومی سفیر پھر قبرستان گیا اور وہاں دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے ہیں

 انہوں نے اپنی قمیص اتاری ہوئی تھی جس کی چادر ان کے جسم کے نچلے حصے پر تھی۔

وہ زمین پر اوندھے منہ لیٹا تھا جس کے سر پر کوئی تخت یا تاج نہیں تھا۔ نہ کوئی سپاہی تھا نہ کوئی محافظ۔

 

خوف سے کانپنا

 

لیکن جیسے ہی سفیر نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا وہ خوف سے کانپنے لگا۔ اس نے اپنے اندر کہا

میں نے اس زندگی میں بہت سے بڑے بادشاہ دیکھے ہیں۔

اور بہت سے حکمرانوں کے ساتھی اور معتمد رہے ہیں۔ مجھے کبھی کسی بادشاہ کا خوف نہیں ہے۔

لیکن میں اس کے لیے خوف اور خوف محسوس کرتا ہوں۔

اس طرح کے پھٹے ہوئے لباس میں ملبوس میرے ہوش و حواس ختم ہو رہے ہیں۔

یہ شخص بغیر کسی ہتھیار کے اور بغیر کسی قوت کے یہاں اس زمین پر تنہا سو رہا ہے۔

وہ کون سی چیز ہے جس کی وجہ سے میرا سارا جسم اس کے خوف سے لرزتا اور کانپتا ہے؟

اگر میری سات لاشیں ہوں تو بھی وہ برداشت نہیں کریں گے اور سب کانپ جائیں گے۔ 

پھر ایلچی نے اپنے آپ سے کہا

یہ خوف اور خوف جو میں محسوس کرتا ہوں اس کے لیے نہیں ہے جو پھٹے ہوئے کپڑوں میں ملبوس ہے۔

درحقیقت یہ اللہ کا خوف ہے کیونکہ اس پھٹے ہوئے لباس والے کا دل اللہ کے قرب اور قرب سے نوازا ہوا ہے۔

چنانچہ اس ایلچی نے حضرت عمرؓ کی صحبت اور مہربانی سے اسلام قبول کیا۔

مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جو اللہ سے ڈرتا ہے اور نیک زندگی اختیار کرتا ہے

اس سے جن و انس ڈرتے ہیں اور جو اسے دیکھتا ہے وہ خوف اور خوف سے مغلوب ہوجاتا ہے۔ 

 

You May Also Like:The Story of Sultan Murad and the dead man

Leave a Reply

Your email address will not be published.