حضرت ابوذر غفاریؓ کا واقعہ

حضرت ابوذر غفاریؓ کا واقعہ

Story Of Hazrat Abu Zar Ghaffari

 

Story Of Hazrat Abu Zar Ghaffari

شاعری کی مندرجہ بالا دو سطریں (اردو زبان کے جوڑے) علامہ اقبال کی

مشہور انقلابی طویل نظم طلوع اسلام سے لی گئی ہیں۔ ان دو مختصر سطروں

میں علامہ اقبال نے اسلامی روح کے تین بڑے عناصر کی نشاندہی کی ہے

جو کبھی دنیا پر حکومت کرتے تھے اور ان کی رائے میں یہ بات دہرانے

کے لیے تیار تھے کہ کیا ان عناصر کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ وہ یہ ہیں

(i) امام علی بن ابی طالب میں شہادت کا جذبہ، (ii) ابو زر غفاری کا سماجی جوش

 (iii) سلمان الفارسی عقیدت مندانہ استقامت سلمان الفارسی 

ان سطور میں جو بات بہت نمایاں ہے وہ یہ ہے کہ علامہ اقبال نے جبر و استبداد

کی نشاندہی کے لیے ماضی کی دو عظیم سلطنتوں (رومی اور فارسی) کے نام استعمال

کیے ہیں۔ اس کے بعد وہ تین افراد کے نام بتاتے ہیں جنہوں نے اپنی ذات کی طاقت

سے اس ظلم کو دبایا  پیغام یہ ہے کہ انسانی روح کو مسخر کرنے کے لیے گروہوں اور

ملکوں کی اجتماعی کوشش کی ضرورت ہے لیکن ظلم کو توڑنے کے لیے صرف ایک فرد

کی ذاتی قوت درکار ہے تاریخی اعتبار سے یہ بات بھی درست ہے کہ جب اسلام

عالمی تاریخ کے افق پر طلوع ہوا تو جزیرہ نمائے عرب کے دونوں سروں پر وہ دو

سلطنتیں تھیں جو ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہی تھیں  اس عمل میں وہ آزادی

آزادی اور انسانی حقوق کی انسانی روح کو کچل رہے تھے  اسلام نے آکر دونوں

سلطنتوں کو توحید (خدا کی وحدانیت) کے پیغام سے روحانی طور پر آزادی دے کر

معاشی طور پر خود کفیل بنا کر اور سماجی طور پر انسانی ہمدردی اور قدر کا نظام دے کر تباہ کیا۔

 

حضرت ابوذرؓ کا اصل

 

حضرت ابوذرؓ کا اصل نام جندب بن جنادہ بن سکن تھا جو ابو ذر الغفاری یا ابو ثر الغفاری

کے نام سے مشہور تھے۔ حضرت ابوذر کی کنیہ ابو ذر تھی، جس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے

بڑے بیٹے کا نام زر رکھا گیا تھا (عربی میں اس لفظ کا مطلب ‘خوشبو’ ہے)۔ ایک اندازے

کے مطابق ابو ذر 568ء میں پیدا ہوئے، یعنی ابو ذر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے

دو سال بڑے تھے۔حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا تعلق عرب کے ایک قبیلے سے تھا

جس کا نام غفار تھا۔ابو ذر بت پرستی کے رواج سے سب سے زیادہ ناخوش تھے

جو ساتویں صدی کے عرب میں رائج تھا۔ وہ پہلے ہی ایک اعلیٰ خدا پر یقین رکھتا تھا

اور وہ اپنا زیادہ تر وقت اسی پر غور کرنے میں صرف کرتا تھا۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذاتی طور

پر ملاقات کا فیصلہ کیا  یہ وہ وقت تھا جب اسلام نے صرف مٹھی بھر مسلمان

جمع کیے تھے۔ ان کی پہلی ملاقات امام علی بن ابی طالب سے ہوئی جنہوں نے ان کا

تعارف اپنے والد ابو طالب سے کرای  ابو طالب اسے حضرت حمزہ کے پاس لے گئے۔

ایک مکمل حفاظتی جانچ کے بعد ابو ذر کو آخرکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملوایا گیا۔

کہا جاتا ہے کہ ابوذر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کہا  یہ عرب کی ابتدائی

مسلم ثقافت میں اسلامی سلام کے متعارف ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے۔

 

ابو ذرکے بھائی

 

ابو ذر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلکشی، عظمت اور مہربانی نے اپنی لپیٹ

میں لے لیا  اس نے اپنی شہادت کہا (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود

نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں) اور اسلام قبول کیا  اسی طرح

ان کے بھائی نے بھی۔حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کچھ دن مکہ مکرمہ میں

گھومتے رہے۔ ان چند دنوں میں اس نے مندر کے میدان میں ایک دو تقریریں کیں۔

اسے کفار نے فوراً زیر کر لیا اور درحقیقت بری طرح مارا پیٹا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا العباس بن عبدالمطلب دونوں بار ان کی مدد

کے لیے آئے اور ان واقعات کی اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنے قبیلہ غفار

میں واپس چلے جائیں اور وہیں رہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم

یثرب (مدینہ) چلے جائیں اور مسلمان اپنے آپ کو قائم نہ کر لیں  چنانچہ ابوذر گھر

واپس چلے گئے اور دونوں بیٹوں کے زیر اثر ان کی والدہ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔

مدینہ میں ان چند سالوں کے دوران ابو زر کی امام علی بن ابی طالب سے بہت دوستی

ہوگئی۔ سلمان الفارسی، ابوذر غفاری، مقداد بن اسود اور عمار یاسر نامی چار افراد ہمیشہ

امام علی بن ابی طالب کی صحبت میں نظر آتے تھے  وہ شیعہ کے نام سے مشہور ہوئے۔

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے نیک زندگی گزاری اور اپنے دن عبادت و ریاضت

میں گزارے ا س کا روزانہ کا کھانا مٹھی بھر کھجور ہوتا تھا۔ اس نے مطمئن زندگی گزاری

ہمیشہ سچ بولا اور وہ اپنے ایمان پر پختہ تھا۔

 

معاویہ

 

ایک دن ابوذر اس جگہ سے گزرے جہاں معاویہ اپنا سبز محل بنا رہا تھا  وہ معاویہ کے

پاس گیا اور کہا اے معاویہ  اگر تم اللہ کا مال اس منصوبے میں خرچ کر رہے ہو

 تو تم خیانت کر رہے ہو کیونکہ تم اللہ کا مال غبن کر رہے ہو  اگر یہ تمہارے ذاتی مال

سے تعمیر ہو رہا ہے تو یہ مکروہ اسراف ہے۔ معاویہ جواب میں ایک لفظ بھی نہ بول سکا۔

ابوذر اس کے بعد مرکزی مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ لوگوں کے درمیان کھڑے ہو کر

تقریر کی۔ لوگ ابوذر کے گرد جمع ہونے لگے اور ان کی باتیں سننے لگے۔ غریب اور

بے سہارا اس کی طرف متوجہ تھے اور امیر اس سے ڈرتے تھے۔

حبیب بن مسلم فہری نامی شخص نے یہ سب دیکھا اور اپنے آپ سے کہا  یہ بڑا فتنہ ہے۔

پھر وہ معاویہ کے پاس گیا اور کہا اگر تم شام پر حکومت جاری رکھنا چاہتے ہو تو ابو ذر

کے بارے میں کچھ کرو  ورنہ وہ یہاں انقلاب برپا کر دے گا۔

امام جعفر صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں حضرت ابوذر  صحابی رسول (ص) اللہ کے

خوف سے روتے رہے یہاں تک کہ تقریباً نابینا ہو گئے  لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ اپنی

آنکھوں کے لیے دعا کریں لیکن آپ نے فرمایا  میں زیادہ ضروری کاموں میں مصروف ہوں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ کیا ہیں تو اس نے جواب دیا  ‘جہنم کا خوف اور جنت کی خوشی۔

 

You May Also Like: Story Of Hazrat Abu Talib(a.s)

You May Also Like: The House of Abu Ayyub Ansari (R.A)

Leave a Reply

Your email address will not be published.