عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قصہ

عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قصہ

Story of Abdullah Ibn Masood (R.A.)

 

عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قصہ

عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔

وہ کنیت ابو عبدالرحمٰن کے نام سے بھی جانے جاتے تھے۔عبداللہ بن مسعود

رضی اللہ عنہ تقریباً 594 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے  ان کے والدین کا

نام مسعود بن غفیل اور ام عبد بنت عبدود تھا  دونوں کا تعلق تمیم قبیلہ سے تھا۔

جب وہ ابھی جوانی میں تھے  ابھی بلوغت کی عمر بھی نہیں گزری تھی  وہ قریش

کے سردار عقبہ بن معیط کے ریوڑ چرا کر لوگوں سے دور مکہ کے پہاڑی راستوں پر

گھومتے تھے  لوگ اسے “ابن ام عبد” غلام کی ماں کا بیٹا کہتے تھے۔

ایک دن عبداللہ  رضی اللہ عنہ نے بھیڑ چراتے ہوئے دیکھا کہ دو آدمی ادھیڑ عمر

اور باوقار بزرگ تھے، دور سے ان کی طرف آرہے تھے۔ وہ ظاہر ہے بہت تھکے

ہوئے تھے وہ بھی اس قدر پیاسے تھے کہ ان کے ہونٹ اور حلق بالکل خشک تھے۔

وہ اُس کے پاس آئے، اُسے سلام کیا اور کہا کہ اے نوجوان  اِن میں سے ایک

بھیڑ ہمارے لیے دودھ دو تاکہ ہم اپنی پیاس بجھائیں اور اپنی طاقت بحال کریں۔

عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں نہیں کر سکتا بھیڑیں میری

Story of Abdullah Ibn Masood نہیں ہیں  میں صرف ان کی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوں۔

 

دو آدمی

 

دونوں آدمیوں نے اس سے بحث نہیں کی  درحقیقت  اگرچہ وہ بہت پیاسے تھے

لیکن ایماندارانہ جواب پر وہ بہت خوش ہوئے  وہ دو آدمی درحقیقت خود

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

تھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کی خدمت میں حاضر ہونے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے رضامندی ظاہر کی اور اس دن سے خوش نصیب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ضروریات کو پورا کرنے کے بدلے میں بھیڑ بکریاں

چرانا ترک کر دیا  وہ گھر کے اندر اور باہر اس کی ضروریات پوری کرتا  وہ سفر اور

مہمات میں اس کے ساتھ ہوتا  جب وہ سوتا تو اسے جگا دیتا  جب وہ دھوتا تو اسے

ڈھال دیتا  وہ اپنا عملہ اور اپنا مسواک  دانتوں کا برش  لے کر جاتا اور اپنی دوسری

ذاتی ضروریات کو پورا کرتا  وہ اس دن قریش کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے مکہ کے

Story of Abdullah Ibn Masood پہاڑوں پر نکلے تھے۔

 

سنت نبوی

 

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں منفرد

تربیت حاصل کی  وہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی رہنمائی میں تھا  اس

نے ان کے طریقے کو اپنایا اور ان کی ہر خصلت کی پیروی کی یہاں تک کہ ان کے

بارے میں کہا گیا کہ  وہ سیرت میں پیغمبر کے سب سے زیادہ قریب تھے۔

عبداللہ  رضی اللہ عنہ  کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے مکتب میں پڑھایا

جاتا تھا  صحابہ کرام میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والے تھے اور ان سب سے

بہتر سمجھتے تھے  اس لیے وہ شریعت  اسلامی فقہ کے سب سے زیادہ جاننے والے

تھے  اس کی مثال اس شخص کے قصے سے بہتر کوئی نہیں دے سکتی جو عمر بن

خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس میدان عرفات میں کھڑے ہو کر کہنے لگا

اے امیر المومنین میں کوفہ سے آیا ہوں جہاں میں نے ایک آدمی کو قرآن کے نسخے

یادداشت سے بھرتے ہوئے چھوڑا ہے۔ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مسلمانوں کے حالات کے بارے میں گفتگو کر رہے

تھے  میں ان کے ساتھ تھا  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلے تو ہم

بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوگئے اور جب ہم مسجد سے گزرے 

ایک آدمی نماز میں کھڑا تھا جسے ہم نہیں پہچانتےتھے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے کھڑے ہو کر اس کی باتیں سنیں  پھر ہمار یطرف متوجہ ہوئے اور فرمایا  جو شخص

قرآن مجید کو اس طرح تازہ پڑھنا چاہے جیسا کہ

نازل ہوا تھا  تو وہ اس کے مطابق پڑھے ابن ام عبد کی قراءت کے لیے ابن ماجہ: 138

 

ابن ام عبد کی قراءت

 

نماز کے بعد جب عبداللہ  رضی اللہ عنہ  بیٹھ کر دعا مانگ رہے تھے تو رسول اللہ  صلی اللہ

علیہ وآلہ وسلم   نے فرمایا  مانگو تمہیں دیا جائے گا، مانگو تمہیں دیا جائے گا۔

اللہ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ، قائم و دائم ہے  اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند

 اس شخص نے جواب دیا  آیت الکرسی  عرش کی آیت  کا حوالہ دیتے ہوئے جواب دیا۔

بے شک اللہ عدل اور حسن سلوک اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے جواب آیا۔

سورہ نوح: 16:90

جس نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی وہ اسے دیکھ لے

گا ۔ سورہ زلزال: 99:7-8

کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے  اللہ کی رحمت سے مایوس

نہ ہوں  بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے  بے شک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔

سورۃ الزمر:39:53

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ارحم الراحمین۔ اعلٰی قرآن۔ خلقل انسان۔ اللہ تعالیٰ کے نام

سے۔ جو مہربان  رحم کرنے والا  رحم کرنے والا ہے  اس نے قرآن کی تعلیم دی  اسی

نے انسان کو پیدا کیا اور سکھایا۔ وہ واضح حق ہے… سورۃ الرحمن: 55

 

رات کو سورہ الواقعہ

 

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا تم میرے بچوں کی غربت سے ڈرتے ہو میں

نے انہیں ہر رات سورہ الواقعہ پڑھنے کا حکم دیا ہے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ

وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ہر رات سورہ الواقیہ پڑھے گا وہ نہیں ہوگا۔

کبھی غربت سے متاثر اس رات عبداللہ  رضی اللہ عنہ  اپنے رب کی صحبت میں چلے

گئے  ان کی زبان اللہ کے ذکر اور اس کی کتاب کی آیات کی تلاوت سے تر تھی۔

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات مدینہ منورہ میں 653ء میں ہوئی  اور رات کو

جنت البقیع میں دفن کیا گیا  اس میں اختلاف ہے کہ ان کی نماز جنازہ عمار بن

یاسر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی یا خلیفہ عثمان رضی اللہ عنہ نے۔

 

You May Also Like: The Story Of Abdullah Bin Umar(r.a)

You May Also Like: The Tomb of Abdullah-bin-Rawahah (R.A)

Leave a Reply

Your email address will not be published.