کہانی (500) سال کی عبادت

کہانی (500) سال کی عبادت

The Story (500) Years of Worship

 

فرشتہ جبرائیل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ماضی میں ایک ایسے شخص کا واقعہ سنایا

جس نے 500 سال تک مسلسل اللہ کی عبادت کی۔

اسے ایک پہاڑ کی چوٹی پر پناہ دی گئی جو نمکین پانی سے گھرا ہوا تھا۔

تاہم اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لیے پہاڑ سے میٹھے پانی کی ایک نہر جاری کی۔

آدمی اس پانی سے پیتا اور وضو کرتا۔

اللہ تعالیٰ نے انار کا ایک درخت بھی اگایا جس سے آدمی روزانہ ایک پھل کھاتا تھا۔

ایک دن اس شخص نے اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ میری موت

اس حال میں کر دے جب میں سجدے کی حالت میں ہوں۔

اللہ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی۔

جبرائیل علیہ السلام جب بھی زمین پر اترے تو اس شخص کو اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے پایا۔

جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہے گا

کہ اس شخص کو اپنی رحمت سے جنت میں لے جاؤ۔

البتہ یہ آدمی اصرار کرے گا کہ وہ اپنے کیے ہوئے نیک اعمال کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہے گا کہ اس کی نیکیوں کا موازنہ ان نعمتوں سے کریں جو اسے دنیا میں دی گئیں۔

دیکھا جائے گا کہ ان کی 500 سال کی عبادت اس آنکھ کی بینائی کے برابر بھی نہیں جو اللہ تعالیٰ نے انہیں عطا کی تھی۔

فرشتوں سے کہا جائے گا کہ اسے جہنم کی آگ کی طرف لے جائیں۔

پھر وہ آدمی التجا کرے گا کہ اے اللہ مجھے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کر۔

 

 اللہ اور اس کا آدمی 

 

اس وقت اللہ اور اس آدمی کے درمیان درج ذیل بحث ہوئی۔

اللہ: اے میرے بندے تجھے کس نے پیدا کیا؟

نمازی: اے اللہ تو نے مجھے پیدا کیا ہے۔

اللہ: کیا آپ کو آپ کے نیک اعمال کی وجہ سے پیدا کیا گیا ہے یا میری رحمت سے؟

نمازی: تیری رحمت کی وجہ سے۔

اللہ: آپ کو 500 سال عبادت کی توفیق کس نے دی؟

نمازی: اے اللہ! آپ نے مجھے یہ صلاحیت عطا کی ہے۔

اللہ: آپ کو سمندر سے گھرے پہاڑ پر کس نے رکھا؟

کھارے پانی کے درمیان میٹھے پانی کی ندی کو کس نے بہایا؟

آپ کے لیے انار کا درخت کس نے اگایا؟ سجدے کی حالت میں تجھے موت کس نے دی؟

نمازی: اے جہانوں کے پالنے والے! آپ نے یہ سب کچھ کیا ہے۔

پھر اللہ فرمائے گا کہ یہ سب میری رحمت سے ہوا ہے اور تم بھی میری رحمت سے ہی جنت میں داخل ہو گے۔

ماخذ: شیخ ابواللیث سمرقندی کی کتاب “تمبیح الغافلین” سے ماخوذ۔

ہم اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا کبھی شکر ادا نہیں کر سکتے۔

آئیے ان نعمتوں کو اپنی موت سے پہلے اللہ کو پہچاننے کے لیے استعمال کریں۔

 

You May Also Like:Prophet Salih Story

You May Also Like:The Story Fornicator And Pious Drunkard

Leave a Reply

Your email address will not be published.