سعودی عرب میں اذان کے دوران میوزک چلانے پر دو ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا۔

سعودی عرب میں اذان کے دوران میوزک

چلانے پر دو ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا

In Saudi Arabia Anyone Playing Music During

Adhan Will Be Fined SAR Two Thousand

 

In Saudia Arabia Anyone Playing Music During Adhan Will Be Fined SAR Two Thousand

 

سعودی عرب کے حکام نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں حج اور عمرہ کے

نئے رہنما خطوط جاری کرتے ہوئے عازمین کے لیے ضابطے سخت کر دیے

ہیں جو ہفتے کے روز عوام کے لیے متعارف کرائے جاتے ہیں۔

حکومت کے مطابق زائرین، چاہے وہ مملکت کے اندر سے ہوں یا دوسرے

ممالک سے، اذان کے دوران موبائل کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا

گیا ہے، جو کہ غیر اخلاقی اور ممنوع ہے۔

 سعودی 

لہٰذا، سعودی حکام عوام کو اذان اور اقامت (بالترتیب نماز کی پہلی اور دوسری اذان)

کے دوران رہائشی علاقوں میں موسیقی بجانے یا بڑھانے سے خبردار کرتے ہیں۔

اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ مساجد سے اذان کے دوران کسی بھی

قسم کی ’موسیقی‘ بجاتے ہوئے پکڑے جانے والے کو اب پہلی بار خلاف ورزی

پر ایک ہزار ریال جرمانہ کیا جائے گا اور اگر خلاف ورزی دہرائی گئی تو جرمانہ

بڑھ کر دو ہزار ریال ہوجائے گا۔

Saudi Arabia Anyone Playing Music During Adhan Will Be Fined SAR

 جرمانہ 

یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ جرمانہ صرف اس صورت میں عائد کیا جائے گا جب

مسجد سے اذان دی جارہی ہو یہ ان لوگوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جو اپنی کاروں

یا گھروں میں اونچی آواز میں موسیقی بجاتے ہیں۔

تاہم، یہ اصول ان لوگوں پر لاگو نہیں ہوتا ہے جو اپنے ہیڈ فون پر موسیقی سن رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، سعودی عرب نے رہائشی محلے میں میوزک کا والیوم بڑھانے

والے پر پانچ سو ریال جرمانہ بھی عائد کیا ہے، اگر محلے کے رہائشی کی جانب

سے شکایت درج کروائی جاتی ہے۔

 مساجد یا سرکاری دفاتر 

سعودی عرب کی حکومت نے مساجد یا سرکاری دفاتر کے اندر شارٹس پہننے والے

پر دو سو پچاس ریال سے لے کر پانچ سو ریال تک کا نیا جرمانہ بھی متعارف کرایا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق نئے ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے بعد مساجد اور سرکاری

اداروں میں شارٹس پہننا سماجی آداب کے خلاف ہے۔

تاہم، حکومت نے واضح کیا ہے کہ مساجد کے علاوہ عوام میں شارٹس پہننے

والے مردوں کو عوامی سجاوٹ کی خلاف ورزی نہیں سمجھا جائے گا۔

 نئے جرمانے 

نئے جرمانے سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف کی جانب سے

ایک وزارتی حکم نامہ جاری کرنے کے بعد متعارف کرائے گئے جس میں عوامی

سجاوٹ کے ضابطے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

نئے حکم نامے میں دو ہزار انیس میں منظور شدہ عوامی آداب کے جرائم کی فہرست

میں شامل انیس خلاف ورزیوں کو اب بیس خلاف ورزیوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

وزارت کے مطابق اس فہرست میں خلاف ورزیوں پر پچاس ریال سے چھ ہزار ریال

تک جرمانے کی سزا دی جائے گی۔ درحقیقت ان میں سے زیادہ تر سعودی عرب میں پہلے

ہی ممنوع ہیں لیکن اس سے قبل کوئی خاص سزا نہیں دی جاتی تھی اور فیصلہ جج پر چھوڑ دیا جاتا تھا۔

 

You May Also Like: Karnataka suspends 58 Muslim studentsstaging protests wearing headscarves Hijab

Leave a Reply

Your email address will not be published.