ریاض الجنۃ اور محراب

ریاض الجنۃ اور محراب

The Riadhul Jannah and The Mehrab

 

حجرہ مقدسہ اور منبر (ممبر) کے درمیان کا علاقہ ریاض الجنۃ  یعنی جنت کا باغ کہلاتا ہے۔

یہ فی الحال سبز قالین سے ممتاز ہے اور اسے رودہ بھی کہا جاتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیرے گھر اور میرے منبر کے درمیان

جنت کے باغوںمیں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض (الکوثر) پر ہے۔

اصل سائز تقریباً 22 میٹر لمبائی اور 15 میٹر چوڑائی ہےاس کا کچھ حصہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں ہے۔

 

 محراب (نماز کا مقام) 

 

 

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ پہنچنے پر

تقریباً 16 ماہ تک القدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔

اگر کوئی عائشہ کے کالم سے پیچھے کی طرف چلا جائے تو پانچواں کالم باب

جبرائیل کے نشان والے دروازے کے مطابق ہوگا۔

یہ پانچواں کالم مذکورہ مدت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریباً نماز کا مقام تھا۔

یہ اصل مسجد کی انتہائی شمالی حد کے قریب تھا۔

قبلہ بدلنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف منہ کر کے

تھوڑی دیر کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کے ستون کے پاس نماز پڑھی۔

بعد ازاں آپ نے اس مقام پر نماز پڑھائی جہاں آج کل محراب نبوی ہے۔

یاد رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور چاروں خلفائے

راشدین کے دور میں اس مقام پر کوئی محراب نہیں تھا۔

عمر بن عبدالعزیز نے (91 ہجری) میں ایک محراب کی شکل میں نماز کا مقام بنایا۔

تب سے اسے محراب نبوی کہا جاتا ہے۔

اگر آپ محراب میں نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوں تو

آپ کا سجدہ وہ جگہ ہو گا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پڑتے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سجدے کی جگہ محراب کی موٹی دیوار سے ڈھکی ہوئی ہے۔

 

 ممبر 

 

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے وقت کھجور کے تنے سے ٹیک لگاتے تھے۔

انصار نے عاجزی سے انہیں مشورہ دیا کہ اگر وہ منظور کریں تو ہم آپ کے لیے منبر بنا سکتے ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منظور فرمایا اور منبر بنایا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر خطاب کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنے کو گلے لگایا یہاں تک کہ وہ پرسکون ہو گیا

پھر حکم دیا کہ ایک کھائی کھودی جائے اور تنے کو اس میں اچھی طرح دفن کر دیا جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دیتے وقت تیسرے حصے پر کھڑے ہوتے تھے۔

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو دوسرے حصے پر کھڑے ہوئے

اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہلے پر کھڑے ہوئے۔

خلیفہ عثمان بن عفان نے وہی کیا جیسا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کے پرانے عہدے پر واپس آنے سے پہلے چھ سال تک کیا تھا۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک منبر بنایا تھا جس میں

نو اعضاء تھےقائدین ساتویں دامن پر بیٹھنے لگے۔

اس وقت سے منبر کو اسی شکل میں رکھا گیا ہے اور

خطیب اس وقت سے ساتویں چوٹی پر بیٹھا ہے۔

صدیوں میں کئی مواقع پر منبر کو تبدیل کیا گیا ہے۔

موجودہ منبر کو سلطان مراد نے 998 ہجری میں نصب کیا تھا۔

 

You Might Also Like: The Sacred chamber (Rawdah Mubarak)

You Might Also Like: The Masjid-e-Nabwi

Leave a Reply

Your email address will not be published.