حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ

Prophet Yunus Story

 

یونس ابن متہ (انگریزی میں یونس کو کہا جاتا ہے) اللہ کے ایک رسول تھے۔

جنہیں شمالی عراق کے ایک شہر نینویٰ میں بھیجا گیا تھا جس کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔

حضرت یونس بظاہر ایک عام آدمی تھے جو نینویٰ کے ہم وطنوں میں پیدا ہوئے اور پرورش پائی۔

نینوا کا عروج والا شہر طویل عرصے سے اللہ کے پیغام کو بھول چکا تھا

اور بت پرستی اور گناہوں سے بھرا شہر بن گیا تھا۔ اللہ نے فیصلہ کیا

کہ ان کے درمیان پیدا ہونے والے ایک شخص حضرت یونس کو ایک رسول بنا کر

بھیجے تاکہ وہ اپنے راستے یعنی روشنی کے راستے کی طرف رہنمائی کریں۔

حضرت یونس علیہ السلام  اپنی قوم کو اللہ کی طرف رجوع کرنے اور بت پرستی سے بچنے کی دعوت دی۔

لیکن نینویٰ کے لوگوں نے یونس کو رد کر دیا یونس کو حوصلہ نہیں ملا۔

وہ ان کو اللہ کی عبادت کی طرف بلاتا رہا اور انہیں اللہ کے خوفناک غضب کی یاد دلاتا رہا

لیکن اُنہوں نے اِس بات کو رد کر دیا اور کہا کہ ہم اور ہمارے آباؤ اجداد

نے کئی سالوں سے اِن دیوتاؤں کی پرستش کی ہے اور ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

حضرت یونس  نے اپنی قوم سے ہمت نہیں ہاری۔انہیں اللہ کے عذاب سے ڈراتے رہے۔

حضرت یونس نے اپنے لوگوں کو چھوڑ دیا۔ اللہ کی اجازت کے بغیر اس نے نینویٰ شہر کو چھوڑنے کا

فیصلہ کیا نینوا کا پرسکون آسمان جلد ہی غصے سے سرخ ہو گیا مرد، عورتیں اور بچے خوف سے بھرے دلوں

کے ساتھ پہاڑوں کی چوٹیوں پر اپنے اوپر آسمان کی لڑائی دیکھ رہے تھے۔

انہیں جلد ہی یونس کا اللہ کے عذاب کی تنبیہ یاد آ گئی اور وہ عاد، ثمود اور قوم نوح کی مصیبت سے ڈر گئے۔

 

 اللہ کی رحمت 

 

نئے ایمان کے ساتھ، وہ گھٹنوں کے بل گر پڑے۔ ہاتھ پھیلا کر اللہ سے معافی اور رحمت کی بھیک مانگنے لگے۔

 سچی توبہ کے اس مظاہرے سے متاثر ہو کر، اللہ تعالیٰ نے اپنا عذاب اٹھا لیا

اپنی رعایا کو معاف کر دیا اور ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائیں۔ جیسے ہی آسمان صاف ہوا

لوگوں نے اپنے پیارے نبی یونس کی بحفاظت واپسی کے لیے دعا کی، تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے پر چلا سکیں۔

اسی دوران حضرت یونس علیہ السلام، جو نینویٰ سے نکلے تھے ایک چھوٹے سے مسافر بردار

بحری جہاز میں اس نیت سے سوار ہوئے تھے کہ وہ اپنی قوم سے زیادہ سے زیادہ دور سفر کریں۔

  ایک طوفان نے جہاز کو بے دریغ ہلا کر رکھ دیا۔ جہاز کا عملہ اور مسافر اپنی جانوں کے لیے خوفزدہ

ہونے لگے کیونکہ سمندر کا پانی دھیرے دھیرے ڈیک میں بھرنے لگا اور جہاز کو آہستہ آہستہ ڈوبنے لگا۔

 جہاز کے کپتان نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ وہ سامان اور دیگر تمام اضافی بوجھ کو باہر پھینک دیں

 جہاز کا اضافی بوجھ باہر پھینک دیا۔ لیکن جہاز ڈوبتا چلا گیا کیپٹن کے پاس کوئی چارہ نہیں بچا تھا

اگر وہ اپنے عملے اور مسافروں کی جان بچانا چاہتا تو اسے ایک آدمی کی جان قربان کرنی پڑی۔

 کپتان نے قرعہ اندازی کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ قربانی کے لیے مسافر کا انتخاب کیا جائے۔

قرعہ اندازی ہوئی اور حضرت یونس کا نام چنا گیا۔ وہ لوگ جانتے تھے کہ یونس ایک نوجوان

 نیک، ایماندار اور بابرکت آدمی ہے چنانچہ قرعہ ڈالا گیا اور یونس کا نام دوبارہ سامنے آیا۔

مردوں نے یونس کو پھینکنے سے  انکار کر دیا چنانچہ انہوں نے تیسری بار قرعہ ڈالا اور یونس کا نام پھر سامنے آیا

 

 اللہ کا فیصلہ 

 

 

 

لوگ حیران رہ گئے لیکن حضرت یونس جانتے تھے کہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کیونکہ انہوں نے

اپنے رب کی رضامندی کے بغیر اپنی قوم کو چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ یونس نے جہاز سے باہر اندھیرے

میں چھلانگ لگا دی سمندر کے بیچوں بیچ جیسا کہ اللہ نے حکم دیا سمندر کی سب سے بڑی وہیل

نے یونس علیہ السلام کو پانی سے ٹکراتے ہی نگل لیا۔ یونس، جو بے ہوش تھا، بیدار ہوا کہ اپنے

آپ کو سراسر اندھیرے میں لپٹا ہوا پایا۔اسے یقین تھا کہ وہ اپنی قبر میں ہے۔ لیکن جیسے ہی اس

کے حواس بیدار ہوئے تو اسے معلوم ہوا کہ وہ اپنی قبر میں نہیں بلکہ ایک بڑی مچھلی کے پیٹ میں ہے۔

وہیل کے پیٹ کی گہرائی میں حضرت یونس علیہ السلام نے اللہ کو سجدہ کیا اور کہا

 اے اللہ میں تجھے ایسی جگہ سجدہ کر رہا ہوں جہاں سے پہلے کسی نے تجھے سجدہ نہیں کیا، مچھلی کے پیٹ میں۔

 تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں۔ گہرے سمندر کی مخلوق نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعائیں سنی

اور وہیل مچھلی کے گرد جمع ہو کر اللہ کی حمد و ثنا کے جشن میں شامل ہو گئے۔

 

 اللہ کے حکم کی تعمیل 

 

یونس علیہ السلام کی توبہ سے اللہ رحمٰن بہت متاثر ہوا۔ اس نے وہیل کو حکم دیا کہ وہ اپنے رسول

کو قریب ترین ساحل پر تھوک دے۔ وہیل نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی  وہیل کے معدے میں تیزاب

کی وجہ سے یونس کا جسم سوجن تھا۔ اسے سورج اور ہوا سے کوئی حفاظت نہیں تھی اس لیے اللہ تعالیٰ

نے حضرت یونس علیہ السلام کے اوپر ایک درخت اگانے کا حکم دیا تاکہ اسے کھانا اور سایہ ملے۔

اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا اور اسے بتایا کہ اگر اس کی مخلصانہ دعا نہ ہوتی تو یونس علیہ السلام

قیامت تک وہیل مچھلی کے پیٹ میں رہیں گے۔جب یونس مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے

تو انہوں نے اپنا مشن مکمل کرنے کے لیے واپس نینوا کا سفر کیا۔

اپنے آبائی شہر پہنچ کر یونس دنگ رہ گئے — نینویٰ کی پوری آبادی اسلام قبول کر چکی تھی

اور ان کی آمد کا انتظار کر رہی تھی۔ یونس نے اپنی قوم کے ساتھ مل کر اپنے رب کو سجدہ کیا

اور اس کی تمام نعمتوں کا شکریہ ادا کیا۔

 

You May Also Like:Prophet Ayyub Story

You May Also Like:imam Musa Kazim(a.s) Story

Leave a Reply

Your email address will not be published.