حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور بچوں سے محبت

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفقت اور بچوں سے محبت

Prophet Muhammad‘s Kindness and Love for Children

Prophet Muhammad Kindness and Love for Children

 

بچے خدا کی طرف سے انمول خزانہ ہیں بحیثیت مسلمان، ہم انسانی جان

کو مقدس سمجھتے ہیں اور یہ کہ ہر بچہ ایک منفرد وجود ہے عزت اور وقار کا

لائق ہے بچوں کو پیار کرنے اور صحت مند  خوشگوار ماحول

میں پروان چڑھنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہےہر بچہ خُدا کی نظر میں قیمتی ہے

اور اُسے پیار کرنے پرورش پانے، اور معیاری دیکھ بھال سے نوازنے کا

مستحق ہے تاکہ وہ اپنی مکمل صلاحیتوں کو فروغ دے سکےدرحقیقت ہر

مسلمان والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اللہ اس کے رسول

اس کے مذہب اور اس میں موجود مقدس اصولوں کے لیے گہری قدر احترام ا

ور محبت کا درس دیں۔

لہٰذا ہمیں اپنے جانشینوں کی پرورش کو سب سے زیادہ اہمیت دینی چاہیے اور

پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سبق حاصل کرنا چاہیے جو پوری تاریخ میں

انسانیت کے لیے بہترین نمونہ رہے ہیں نہ صرف ان کے کلام سے جو بنی نوع

انسان کے لیے رہنمائی کا کام کرتے ہیں بلکہ اپنے اعمال کے ذریعے بھی جو

بہت سے لوگوں کے لیے تحریک کا باعث ہےپیغمبر اسلام کی شخصیت محض

ایک مخصوص دور، نسل، قوم، مذہب یا مقام کے لیے مثال نہیں تھی بلکہ

وہ تمام لوگوں کے لیے ایک پائیدار عالمی علامت ہے جو وقت سے ماورا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

إِنَّ مِنْ أَكْمَلِ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهِ

بے شک مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کا اخلاق سب سے

اچھا ہو اور اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے زیادہ مہربان ہو۔سنن ترمذی

 

اسلام میں والدین کےحقوق

 

اسلام میں ہمارے والدین کے ہم پر حقوق ہیں اور جب ہم خود والدین بنتے ہیں

تو ہماری اولاد کا ہم پر حق ہوتا ہےجن کلیدی خوبیوں کو حاصل کرنے کے لیے

ہر والدین کو کوشش کرنی چاہیے ان کی مظہر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں

 جنہوں نے درج ذیل غیر جامع طریقوں کو اپنایا

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ خدا کی تمام مخلوقات کے لیے رحمت ہونے کی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فطری فطرت غیر متنازعہ ہے اس کی رحمت

بے مثال ہے اور درحقیقت بچوں کے ساتھ اس کا سلوک نہ صرف

اس کی اپنی اولاد، ہم سب کے لیے ایک مثال ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم

بچوں کو اکثر چومتے اور گلے لگاتے ان کے ساتھ اپنی شفقت اور

شفقت کے اظہار کے طور پر بچوں کے بارے میں اس حدیث میں۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کو حسن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا آپ

صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دس بچے ہیں لیکن میں نے ان میں سے

کسی کو بوسہ نہیں دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا

إِنَّهُ مَنْ لاَ يَرْحَمْ لاَ يُرْحَمْ ‏

جو (اپنی اولاد پر) رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جائے گا۔(صحیح مسلم)

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَدْخُلُ عَلَيْنَا

وَلِي أَخٌ صَغِيرٌ يُكْنَى أَبَا عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم

ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَا شَأْنُهُ‏.‏ قَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ فَقَالَ ‏يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ

 

ایک چڑیا

 

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری عیادت

کے لیے تشریف لاتے تھے میرا ایک چھوٹا بھائی تھا جسے ابو عمیر کنیت کہا جاتا تھا

 اس کے پاس ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتا تھا لیکن وہ مر گئی ایک دن

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے تو آپ کو غمگین دیکھا

 آپ نے پوچھا اس کا کیا حال ہے لوگوں نے جواب دیا’اس کی چڑیا مر گئی ہے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو عمیر! چھوٹی چڑیا کو کیا ہو گیا ہے

(سنن ابی داؤد)

آج کے دن اور دور میں، بہت سے والدین اپنے بچوں کے ساتھ کافی وقت گزارنے

کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، اس لیے یہ ضروری ہے کہ کوئی بھی وقت ایک ساتھ

گزارنا بہترین معیار کا ہو۔ دلکش چنچل سرگرمیوں کا مجموعہ، محبت بھری گفتگو کے

ساتھ مل کر تحفظ اور سکون فراہم کرے گا، اس طرح یہ یقینی بنائے گا کہ بچے کی

صحت مند جذباتی نشوونما ہوتی ہے۔

You May Also Like:Twelve Ways To Understand Kids

You May Also Like:Dua For Parents

Leave a Reply

Your email address will not be published.