پیغمبر اسلام کا امام علی علیہ السلام کو اونٹوں کا تحفہ

پیغمبر اسلام کا امام علی علیہ السلام کو اونٹوں کا تحفہ

Prophet Muhammad Gift Camels To Imam Ali(a.s)

Prophet Muhammad Gift Camels To Imam Ali(a.s)

 

ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو تندرست اور موٹے اونٹ تحفے میں دیے گئے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ (صحابہ کرام) سے پوچھا

کیا تم میں سے کوئی دو رکعت نماز پورے پوری عاجزی کے ساتھ پڑھ سکتا ہے

جس میں دنیا کا کوئی خیال بھی نہ آتا ہو۔ آپ کے دماغ اور عارضی دنیا کے خیالات

آپ کے دل میں نہیں چلتے ہیں تاکہ اگر آپ میں سے کوئی ایسا کر سکے تو میں آپ کو

ان اونٹوں میں سے ایک تحفہ دے سکتا ہوں؟صحابہ میں سے کوئی نہ بولا، خاموشی تھی۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری اور تیسری مرتبہ اپنا چیلنج دہرایا

تاہم آپ کے صحابہ میں سے کسی نے بھی ان کی درخواست کا جواب نہیں دیا اور اپنی جگہ سے نہیں ہلے۔

اس موقع پر امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے کھڑے ہو کر اس چیلنج کو قبول کیا

اور کہا کہ یا رسول اللہ میں دو رکعت نماز پڑھ سکتا ہوں اور پوری نماز کے دوران کوئی بھی کام نہیں کر سکتا۔

دنیا میرے دماغ سے چلتی ہے انشاء اللہ۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا

 

آخری رکعت کا سلام

 

اے علی! کھڑے ہو جاؤ اور نماز پڑھو، اللہ تم پر اپنی رحمت نازل کرے۔

چنانچہ امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنی نماز شروع کی اور جب

آخری رکعت کا سلام شروع کر کے نماز مکمل کرنے والے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے اور آپ سے سرگوشی کی۔ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

کہ ایک اونٹ علی کو دے دو۔حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرئیل علیہ السلام

سے فرمایا: میری شرط یہ تھی کہ نماز کی ادائیگی کے وقت دنیا کے امور ذہن میں نہ آئیں

تب ہی میں اس شخص کو اونٹوں میں سے ایک عطا کرتا۔ جب علی تشہد میں تھے تو اپنے

آپ میں سوچنے لگے کہ وہ کون سا تندرست اور موٹا اونٹ چنیں گے؟

جبرائیل علیہ السلام نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً

اللہ تعالیٰ آپ کو سلام پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ علی علیہ السلام سوچ رہے تھے

کہ ان دو تندرست اور موٹے اونٹوں میں سے کس کو لے جائیں تاکہ اسے ذبح کر دیں۔

اللہ کی راہ اور اللہ کی رضا کے لیے اس کا گوشت مسکینوں اور مسکینوں میں تقسیم کرتا ہے

اس لیے اس (مادی دنیا) کے بارے میں اس کی سوچ اور نیت اللہ کے لیے تھی

اس کے اپنے نفس (اور اپنے ذاتی فائدے) کے لیے نہیں تھی۔ اور نہ ہی یہ اس عارضی دنیا کے لیے تھا۔

اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رونے لگے اور دونوں اونٹ امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام

کو دے دیے، امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام ان دونوں کو ذبح کرنے

کے لیے آگے بڑھے اور ان کا سارا گوشت ضرورت مند لوگوں کو دے دیا۔ 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.