استغفار کی طاقت کی کہانی

استغفار کی طاقت کی کہانی

Power Of Istighfar Story

 

استغفار کے بارے میں یہ قصہ امام احمد بن حنبل کی زندگی سے ہے۔

جنہیں اسلام کے ایک نامور عالم اور مشہور عالم دین سمجھا جاتا ہے۔

امام احمد کو حنبلی مکتبہ فقہ (اسلامی فقہ) کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے

اور وہ سب سے مشہور سنی مذہبی ماہرین میں سے ایک ہیں

جنہیں اکثر “شیخ الاسلام” یا “اہل السنۃ کا امام” کہا جاتا ہے۔ 

بڑھاپے میں جب امام احمد سفر کر رہے تھے تو ایک بستی کے پاس آ کر رکے۔

نماز کے بعد وہ مسجد کے صحن میں رات گزارنا چاہتا تھا کیونکہ وہ شہر میں کسی کو نہیں جانتا تھا۔

اپنی عاجزی کی وجہ سے، اس نے یہ سوچ کر کسی سے اپنا تعارف نہیں کروایا تھا

کہ اگر وہ ایسا کرے گا تو بہت سے لوگ ان کا استقبال کریں گے۔

احمد بن حنبل کو پہچاننے میں ناکامی پر مسجد کے نگراں نے انہیں مسجد میں رہنے دینے سے انکار کردیا۔

چونکہ امام احمد کافی بوڑھے ہوچکے تھے، نگراں کو انہیں گھسیٹ کر مسجد سے باہر نکالنا پڑا۔

یہ دیکھ کر قریب کے ایک نانبائی کو اس شخص  پر ترس آیا

اور اسے رات کے لیے میزبانی کی پیشکش کی۔

نانبائی کے ساتھ قیام کے دوران امام احمد نے مشاہدہ کیا کہ نانبائی مسلسل استغفار  کا ورد کرتا ہے۔

 

امام احمد کا سوال

 

امام احمد نے نانبائی سے پوچھا کہ کیا استغفار کہنے کی مسلسل مشق اس پر کوئی اثر کرتی ہے؟

نانبائی نے جواب میں امام احمد سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تمام دعائیں قبول کر لی ہیں سوائے ایک کے۔

جب اس نے اس سے پوچھا کہ وہ کون سی دعا ہے جو قبول نہیں ہوئی تو نانبائی نے جواب دیا

کہ وہ اللہ سے مانگ رہا ہے کہ وہ اسے مشہور عالم امام احمد بن حنبل سے ملنے کی سعادت عطا کرے۔

اس پر امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی دعا سنی

بلکہ اسے گھسیٹ کر اپنے دہلیز پر پہنچا دیا۔ [الجمعہ میگزین، جلد 19، شمارہ 7 سے خلاصہ]

یہ کہانی کثرت سے استغفار  کہنے کی طاقت کی یاد دہانی ہے۔

 

You May Also Like:Prophet Yousaf (a.s) Story

You May Also Like:Prophet Salih Story

Leave a Reply

Your email address will not be published.