پیغمبر اسلام کے قتل کا منصوبہ

پیغمبر اسلام کے قتل کا منصوبہ

Plan Of Kill Prophet Muhammad

Plan Of Kill Prophet Muhammad

 

 

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا

مشرکوں پر لعنت بھیجو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

میں لعنت بھیجنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا، بلکہ مجھے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔
مسلم جلد 3 نمبر 2112

ایک اور موقع پر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سفر پر تھے۔

ایک دن، دوپہر کے وقت، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چھوٹے سے درخت کا

سایہ منتخب کیا اور آرام کیادشمنوں میں سے ایک نے یہ دیکھ کر کہ محمد اکیلے ہیں

 اسے جلدی اور خاموشی سے قتل کرنے کا مناسب وقت سمجھا۔

وہ کھینچی ہوئی تلوار لے کر اس کی طرف بڑھا اور نبیﷺ سے پوچھا:

“بتاؤ اب کون تمہاری مدد کر سکتا ہے؟”

اللہ کے نبی نے واضح اعتماد کے ساتھ اطمینان سے جواب دیا۔

اس پرسکون یقین کو دیکھ کر دشمن گھبرا گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔

اسی سکون کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار اپنے ہاتھ میں لی اور پوچھا

 

سخی نبی

 

“اب تم بتاؤ کہ تمہیں بچانے والا کون ہے؟” “کوئی نہیں” دشمن نے جواب دیا۔

نہیں، تم غلط ہو، وہی اللہ تمہاری مدد کرے گا سخی نبی نے کہا اور دشمن کو آزاد کر دیا۔

اس عظیم الشان مثال کو دیکھ کر اس شخص نے اسلام قبول کرلیا۔

 

You May Also Like: A Real Story From Hadeeth

Leave a Reply

Your email address will not be published.