وہ جگہ جہاں حضرت سلیمان کی وفات ہوئی

وہ جگہ جہاں حضرت سلیمان  کی وفات ہوئی

Place where Prophet Sulaiman die

Place where Prophet Sulaiman die

 

اقصیٰ کے چبوترے کے عقبی سرے پر واقع یہ عمارت وہ جگہ تصور کی جاتی ہے

جہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کا اپنے عصا پر ٹیک لگاتے ہوئے انتقال ہوا تھا۔

یہ اس وقت لڑکیوں کے سکول کے طور پر کام کر رہا ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے 30 سال حکومت کی اور ان کے عوامی کام زیادہ تر جنات انجام دیتے تھے۔

یہ لوگوں کو یہ یقین دلانے کے ان کے گناہ کی سزا تھی کہ وہ تمام طاقتور ہیں غیب کو جانتے ہیں

اور مستقبل کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ بحیثیت نبی سلیمان علیہ السلام کا فرض تھا

کہ وہ ان سے ایسے باطل عقائد کو دور کریں۔

اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلیمان علیہ السلام کی وفات کا وقت آگیا۔

ان کی زندگی کی طرح اس کی موت بھی غیر معمولی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اسے

لوگوں کو سکھانے کے لیے ایک ذریعہ بنایا کہ غیب کی دنیا بشمول مستقبل کا علم اللہ ہی کو ہے۔

چنانچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات نے بھی ایک اہم مقصد پورا کیا۔

سلیمان علیہ السلام اپنے عصا کو پکڑے بیٹھے جنوں کی نگرانی کر رہے تھے۔

اسی حالت میں بیٹھ کر ان کا انتقال ہوگیا۔

کافی دیر تک کسی کو اس کی موت کی خبر نہ تھی کیونکہ وہ کھڑا ہی بیٹھا ہوا تھا۔

(سلیمان (علیہ السلام) کے قصے کی تفسیر کو اسلامی اسکالر ابن کثیر نے قرآن کی تفسیر سے اخذ کیا ہے)

جنوں نے یہ سوچ کر اپنی محنت جاری رکھی کہ بادشاہ ان پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

دن گزرتے گئے اور بادشاہ کی موت کا علم تبھی ہوا جب دیمک کے ذریعے کھا

جانے والی اس کی چھڑی نے راستہ اختیار کیا اور لاش زمین پر گر گئی۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکر فرمایا

 

 

اُنہوں نے اُس کے لیے کام کیا کیونکہ اُس کی خواہش تھی کہ محرابوں کی

تصویروں کے بیسن کو حوض کی طرح بڑا بنایا جائے اور

اُن کی جگہوں پر کُھلیاں بچھائی جائیں “داؤد کے بیٹے شکریہ کے ساتھ کام کرو!” لیکن

میرے بندوں میں سے تھوڑے ہی شکر گزار ہیں پھر جب ہم نے سلیمان کی

موت کا حکم دیا تو ان کو ان کی موت کسی چیز نے نہیں دکھائی سوائے زمین

کے ایک چھوٹے سے کیڑے کے جو آہستہ آہستہ ان کے عصا کو کوستا رہا

پھر جب وہ گرے تو جنات نے صاف دیکھا کہ کاش وہ غیب جانتے ہوتے۔

وہ اپنے کام کی ذلت آمیز سزا میں دیر نہ کرتے۔ [34:13-14]

Leave a Reply

Your email address will not be published.