کوہ عرفات (جبل عرفات)

کوہ عرفات (جبل عرفات)

The Mount Arafat (Jabal Arafat)

 

جبل عرفات  میدان عرفات میں خانہ کعبہ

سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر گرینائٹ کا ایک چھوٹا پہاڑ ہے۔

عرفات میں کھڑا ہونا حج کا بنیادی تقاضا ہے۔

حجاج کرام حج کے دوسرے دن (9 ذی الحجہ) کو منیٰ سے یہاں کا سفر کرتے ہیں۔

پہاڑ کو جبل الرحمۃ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جس کا مطلب ہے رحمت کا پہاڑ۔

 

 عرفات کے معنی 

 

 

عرفات کے عام معنی جاننا ہے جنت سے نکال کر زمین پر رکھ کر جبل عرفات

میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہ السلام) کی دوبارہ ملاقات ہوئی۔

عرفہ (عرفة) دن کا نام ہے اور عرفات (عرفات) زمین کا نام ہے۔

 

 حجاج کے لیے عرفات کی اہمیت 

 

 

عرفات میں کھڑا ہونا حج کا لازمی حصہ ہے جس نے عرفات میں کھڑے ہونے سے محروم کردیا

اس کا حج چھوٹ گیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حج عرفات ہے۔ [الحکیم]

عرفات کے دن کی بہت فضیلتیں ہیں جیسا کہ بہت سی احادیث میں وارد ہوئی ہیں۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

عرفات کے دن سے زیادہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ سے زیادہ جانوں کو آزاد کرے۔

اور اس دن اللہ زمین کے قریب آتا ہے اور اپنی شان کا اظہار کرتے ہوئے فرشتوں

سے فرماتا ہے کہ ان (میرے بندوں) کی کیا خواہش ہے؟

 

 عرفات کے دن کی دعا 

 

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عرفات کے دن کی سب سے افضل دعا

اور ان تمام دعاؤں میں سب سے افضل جو میں نے پڑھی ہیں یا مجھ سے پہلے

دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام نے جو دعا کی ہے وہ ہے

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں پوری

کائنات میں اسی کے لیے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [ترمذی]

ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

جنگ بدر کے دن کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں شیطان عرفات

کے دن سے زیادہ ذلیل و رسوا، زیادہ اداس اور زیادہ مشتعل نظر آئے۔

صرف اس دن رحمت کے نزول کی کثرت اور اللہ کی طرف

سے بندوں کے کبیرہ گناہوں کی معافی دیکھنے کی وجہ سے۔ [مشق]

 جبل عرفات میں عکاسی کے مقامات 

 

 

جبل عرفات دعا کی ایک خاص جگہ ہے۔ اس مقام کی فضیلت اللہ (ﷻ) سے مانگنے

اور جواب دینے کا وعدہ ہے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم

اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی مقام پر دعا کی۔

حجاج کے دل میں ضرورت کے سوا کچھ نہیں بھرنا چاہیے جو دلی دعاؤں میں پیش کی جاتی ہے۔

سوال کرنے کے لیے اس سے بہتر دن اور کیا ہو گا کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کےوعدے کے مطابق

جواب میں حصہ نہ لیں تو ہم ہی خسارے میں ہیں۔

You Might also like: The Jabal Ayr (Mount Ayr)

Leave a Reply

Your email address will not be published.