مسجد حضرت یونس علیہ السلام

مسجد حضرت یونس علیہ السلام

Mosque of the Prophet Yunus (A.S)

Mosque of the Prophet Yunus (A.S)

 

اس مسجد میں ایک قبر ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے

کہ یہ حضرت یونس علیہ السلام کی ہے۔

یہ مسجد ایوبیوں نے 1226 عیسوی میں تعمیر کی تھی اور یہ

ہیبرون کے شمال میں حلول نامی قصبے میں واقع ہے۔

یہ مغربی کنارے فلسطین کی بلند ترین چوٹی کوہ نبی یونس پر بنایا گیا ہے۔

یونس علیہ السلام کا نام قرآن مجید میں 4 مرتبہ آیا ہے۔

یونس (علیه السلام) کو دو دیگر کنیتوں سے بھی خطاب کیا جاتا ہے

ذون نون (مچھلی کا رب) اور صاحبیل گرم (مچھلی کا ساتھی)۔

قرآن کہتا ہے اور (ذون نون کا ذکر) جب وہ غصے میں چلا گیا اور یہ سمجھا کہ

ہمارا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے لیکن اس نے اندھیرے میں پکارا کہ تیرے

سوا کوئی معبود نہیں۔ تسبیح ہو کہ میں بدکار ہوں۔ [11:87] لیکن اپنے رب کے حکم

کا انتظار کرو اور صاحبِ حُط کی طرح نہ بنو جو ڈر کے مارے پکار رہا تھا۔

[68:48]جب یونس علیہ السلام کو نبوت ملی تو آپ کو حکم دیا گیا کہ تبلیغ حق کے لیے نینوی جائیں۔

نینویٰ قدیم آشوری میں دریائے دجلہ کے دائیں کنارے پر موجودہ دور کے

اہم شہر موصل عراق سے دریا کے اس پار واقع تھا۔

 حضرت یونس علیہ السلام کی قبر 

 

 

جب یونس علیہ السلام اپنی قوم سے روانہ ہوئے تو وہ فلسطین کے شہر جفا میں ٹھہرے

اور انہیں تریش لے جانے کے لیے جہاز پر سوار ہوئے جہاں آج تیونس واقع ہے۔

اس سفر کے دوران ہی اسے جہاز پر پھینک دیا گیا اور مچھلی نے اسے نگل لیا۔

ابن ابو حاتم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کی ہے

کہ جب حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں تھے تو ان کو

یہ معلوم ہوا کہ وہ کہیں اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

تو پاک ہے بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔ [قرآن 21:8]

یہ دعا عرش کے نیچے پائی جاتی ہے۔ فرشتوں نے اللہ سے کہا اے رب! ایک

اجنبی سرزمین سے ایک بیہوش معلوم آواز (پتہ چلا ہے)۔

اس نے ان سے پوچھا کیا تم اسے نہیں پہچانتے نہیں اے رب۔

وہ کون ہے. فرمایا میرے غلام یونس۔

 

یونس علیہ السلام کو بھی موصل عراق میں دفن کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.