امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ بدسلوکی

امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ بدسلوکی

Maltreatment of Imam Jafar Sadiq (a.s)

امام حسن علیہ السلام کی اولاد پر ان تمام مظالم کے باوجود

امام صادق علیہ السلام خاموشی سے اہل بیت کی تعلیمات کی تبلیغ کرتے رہے۔

نتیجتاً وہ لوگ بھی جنہوں نے آپ کو ایک معصوم امام تسلیم نہیں کیا

اور نہ ہی آپ کی شان و نسب کو جانتے تھے، آپ کے علم کے سامنے جھک گئے

اور آپ کے شاگردوں میں شمار ہونے پر فخر کیا۔

منصور عباسی خلیفہ اس عزت کو ختم کرنا چاہتا تھا جس میں امام کو لوگوں میں حاصل تھا۔

اس نے اپنے مقابلے کے لیے علما کو لانے کی کوشش کی لیکن وہ سب اپنے ہی شاگردوں

کے ساتھ بحث کرنے اور کامیاب ہونے میں ناکام ثابت ہوئے۔

دربار کے ان نام نہاد علمائے کرام نے سب نے اعتراف کیا

کہ ان کے ہم منصبوں نے دینی تعلیم پیغمبر کی اولاد سے حاصل کی تھی۔

متکبر خلیفہ نے انہیں نظر انداز کیا اور دوسرے طریقوں سے

امام کی مقبولیت اور احترام کو مجروح کرتا رہا۔

اس میں ناکام ہونے پر اس نے اسے ہراساں کرنے

گرفتار کرنے یا قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہر شہر اور شہر

میں کرائے کے ایجنٹوں کو امام کے پیروکاروں کی

سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب ان پیروکاروں کو رافضون یعنی رد کرنے والے کا نام دیا گیا۔

یہ منصور ہی تھا جس نے اہل بیت کے پیروکاروں کے خلاف ایک فرقہ کو

فروغ دینے کے لیے لفظ اہل سنت والجماعت تیار کیا تھا ۔

جو بھی امام کی حمایت کرتا پایا گیا اسے گرفتار، قید یا قتل کر دیا جائے گا۔

 

مدینہ سے بغداد

 

امام کو خود مدینہ سے بغداد بلوایا گیا، جو عباسی حکومت کے نئے قائم ہونے والے دارالحکومت تھے۔

اس وقت تک یہ کوفہ تھا، جب امویوں کے زوال کے بعد دمشق سے منتقل ہوا تھا۔ پ

انچ بار اسے مدینہ سے بغداد لے جایا گیا، کسی نہ کسی طریقے سے پوچھ گچھ کی گئی یا ہراساں کیا گیا۔

منصور کو اپنی قید یا قتل کا حکم دینے کے لیے کافی بنیادیں نہیں مل سکیں۔

دوسری طرف امام کے عراق میں قیام کے نتیجے میں ان لوگوں کے حلقے میں اضافہ ہوا

جو آپ سے اہل بیت کی تعلیمات سیکھنا چاہتے تھے۔ یہ جان کر منصور نے اسے مدینہ واپس بھیج دیا۔

وہاں بھی امام کو ظلم و ستم اور ایذا رسانی سے نہیں بچا گیا۔

 

You May Also Like:Prophet Yunus Story

You May Also Like:Story Of Imam Jafar Sadiq(a.s) And Mufasil

Leave a Reply

Your email address will not be published.