مدرسہ ابن کثیر

مدرسہ ابن کثیر

Madressa of Ibn Kathir

Madressa of Ibn Kathir

 

یہ قرآن کریم کے مشہور مفسر (مفسر) ابن کثیر کا مدرسہ ہے۔

یہ خانقاہ بحیرہ کے قریب بوسرہ میں واقع ہے۔

ان کا پورا نام ابو الفیدہ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر القرشی البصروی ہے۔

وہ 1301 عیسوی میں بصرہ، شام (اس لیے البصروی) میں پیدا ہوئے۔

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس نے اپنی پہلی سرکاری تقرری 1341 میں حاصل کی

جب وہ بدعت کے بعض سوالات کا تعین کرنے کے لیے بنائے گئے انکوائری کمیشن میں شامل ہوئے۔

اس کے بعد اس نے مختلف نیم سرکاری تقرریاں حاصل کیں جن کا اختتام 1366 میں

اموی مسجد دمشق میں پروفیسری کے عہدے پر ہوا۔

ابن کثیر نے قرآن کی ایک مشہور تفسیر’تفسیر ابن کثیر‘‘ لکھی جس میں بعض احادیث

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور آیات قرآنی پر صحابہ کے اقوال کو تفسیر میں شامل کیا گیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر آج  پوری مسلم دنیا میں قرآن کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی تفسیر کے طور پر مشہور ہے۔

ابن کثیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور پورے قرآن کے حوالے

سے اپنی عظیم یادداشت کے لیے مشہور تھے۔

وہ ایک قاضی (جج) تاریخ کے ماہر عالم اور مفسر (قرآن کا مفسر) کے طور پر جانا جاتا ہے۔

ابن کثیر نے اپنے آپ کو ایک شافعی عالم کے طور پر دیکھا جس کی نشاندہی ان کی دو کتابوں

سے ہوتی ہے جن میں سے ایک طبقہ شافعیہ یا امام شافعی کے پیروکاروں کے زمرے تھے۔

بعد کی زندگی میں وہ نابینا ہو گیا۔ وہ اپنے اندھے پن کی وجہ احمد ابن حنبل کی مسند پر رات گئے کام

کرنے کو قرار دیتے ہیں تاکہ اسے راوی کے بجائے ٹاپیکل طور پر ترتیب دیا جائے۔

آپ کا انتقال فروری 1373 میں دمشق میں ہوا۔

مدرسہ ابن کثیر کا اندرونی منظر

 

ابن کثیر کی مشہور تصانیف

تفسیر ابن کثیر

ابتدا اور انتہا (عربی: البدایہ و نھایۃ)۔

السیرۃ النبویہ

طبقہ شافعیہ

قیامت سے پہلے کی نشانیاں

گناہ اور ان کی سزائیں

انبیاء کی کہانیاں

Leave a Reply

Your email address will not be published.