اسلام میں روزے کا مقصد

اسلام میں روزے کا مقصد

In Islam The Purpose Of Fasting

In Islam The Purpose Of Fasting

 

روزے کا مقصد گناہ کے کاموں سے پرہیز کرکے اپنے آپ کو اپنی خواہشات پر قابو پانے کی

تربیت دے کر نیکی (تقویٰ) کے معیار کو فروغ دینا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں

جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔ (قرآن، 2:183)

لفظ، ‘تقوی’ اصل معنی سے نکلا ہے، ‘محافظہ کرنا’ اور اس کا مختلف طرح سے ترجمہ ذہن سازی

راستبازی، اور تقویٰ پرہیزگاری کے طور پر کیا جاتا ہے۔ روزے کا مقصد ہمارے اندر اس خوبی کو پیدا کرنا ہے۔

اس طرح روزہ ایک ڈھال کا کام کرتا ہے، جو ہمیں گناہ اور آخرت میں اللہ کے عذاب سے بچاتا ہے۔

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

روزہ جہنم سے ڈھال ہے جس طرح تم میں سے کسی جنگ میں ڈھال ہوتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، 1639)

اس لیے ایک مسلمان کو روزے کی حالت میں اپنے آپ کو ہر قسم کے گناہوں سے بچانے کے

لیے خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے۔ اسے بے فائدہ گفتگو اور خاص کر بحث کو ترک کرنا چاہیے۔

اگر کوئی اس سے بحث کرنے کی کوشش کرے تو اسے صرف یہ کہہ کر جواب دینا چاہیے کہ میں

روزے سے ہوں۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 

فحش زبان

 

جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں صبح کو اٹھے تو اسے چاہیے کہ نہ فحش زبان بولے

اور نہ جاہلانہ حرکت کرے۔ اگر کوئی اس کی غیبت کرے یا اس سے جھگڑا کرے تو وہ کہے

میں روزے سے ہوں! بے شک میں روزے سے ہوں!(صحیح مسلم)

اگر کوئی مسلمان روزے کی حالت میں گناہوں اور بے فائدہ باتوں سے اپنے آپ کو بچانے میں

ناکام رہتا ہے تو اس کے روزے نے اپنا مقصد حاصل نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ کو یقیناً ہم میں سے

کسی کو روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، لہٰذا جو مسلمان روزے کی حالت میں گناہ کرتا ہے

اس کے روزے کی فضیلت کو باطل کر دیا جاتا ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور برے کام نہیں چھوڑتا، تو اللہ تعالیٰ

کو اس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔  (صحیح بخاری)

گناہ سے پرہیز کرنے کے علاوہ، ایک مسلمان کو روزے کی ورزش کو خواہشات پر قابو پانے

کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مسلمان دن میں کھانے پینے سے پرہیز کرنے کی قوت ارادی

پیدا کر سکتا ہے تو یہ قوت ارادی اتنی مضبوط ہو جائے گی کہ وہ دوسرے اوقات میں گناہ کے فتنوں

سے انکار کر سکے۔ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

 

شرمگاہ کی حفاظت

 

اے نوجوانو اگر تم بیوی کی کفالت کرنے پر قادر ہو تو نکاح کر لو۔

بے شک یہ آنکھوں کو روکتا ہے اور شرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے

لیکن جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر روزہ فرض ہے کیونکہ یہ کنٹرول کا ذریعہ ہے۔ (صحیح مسلم، 1400)

اس طرح روزہ نفس کو گناہ کی خواہشات اور خواہشات کی تکمیل سے روکنے کا ذریعہ ہے۔

ضبط نفس کا یہ معیار لوگوں کے جنت میں داخل ہونے کی ایک وجہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایاجو لوگ اپنے رب کے مقام سے ڈرتے رہے اور نفس کو میلان سے روکتے

رہے تو یقیناً جنت (اس کا) ٹھکانہ ہو گی۔(قرآن، 79:40-41)

اسی طرح روزہ ہمارے غصے پر قابو پانے کا ایک ذریعہ ہونا چاہیے۔ اس وجہ سے مسلمانوں

کو روزے کی حالت میں بحث یا غیبت کا جواب نہیں دینا چاہیے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

مضبوط پہلوان بہترین پہلوان نہیں ہوتے۔ درحقیقت طاقتور وہی ہیں جو غصے کی

حالت میں اپنے آپ پر قابو رکھتے ہیں۔ (صحیح مسلم، 2609)

 

You May Also Like: Around The World  Ramadan 2022 LongestAnd Shortest Fast Duration

Leave a Reply

Your email address will not be published.