جانوروں کی قربانی کی اہمیت اور احکام

جانوروں کی قربانی کی اہمیت اور احکام

Importance And Ahkam Of  Animal Qurbani

 

Importance-And-Ahkam-Of-Animal-Qurbani

 

ایام نحر میں مخصوص جانور کو ذبح کرنا قربانی ہے۔

جانوروں کی قربانی کی اہمیت

قربانی کرنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔

:اللہ تعالیٰ نے فرمایا

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ

(پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔(قرآن مجید

سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا کہ کسی صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھاکہ یارسول اللہ قربانی کیا ہے؟

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے والد ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔

 

احادیثِ قربانی

حدیث نمبر 1

کسی صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ قربانی کرنے سے ہمیں کیا ثواب ملے گا؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جانور کے) ہر بال کے بدلے ایک فضیلت۔(احمد، ابن ماجہ)

 

حدیث نمبر 2

:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

”ابن آدم کی قربانی کے دنوں میں خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل نہیں

اور وہ جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا۔

قیامت کے دن قربانی کا خون منزل تک پہنچنے سے

پہلے ہی قبولیت کی منزل کو پہنچ جاتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ)

حدیث نمبر 3

:سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہا  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

جس کے پاس استطاعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔ (ابن ماجہ)

حدیث نمبر 4

:سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

”جو مال عید کے دن قربانی پر خرچ کیا جائے اس سے زیادہ پیارا مال کوئی نہیں۔ (طبرانی)

 

قربانی کے حوالے سے صاحب نصاب شخص 

قربانی کے حوالے سے صاحب نصاب وہ شخص ہے جو

  تولہ چاندی52½ (612.4 گرام، 19.75 اونس) اور 7 ½ تولہ سونے کا مالک ہے

کاروباری املاک اور غیر کاروباری املاک میں ان کی قیمت مساوی کا مالک ہو

حجتے اصلا، یعنی وہ چیزیں جو روزی کے لیے ضروری ہیں۔

ان چیزوں کے رکھنے سے نہ قربانی واجب ہوتی ہے نہ زکوٰۃ۔

جیسے رہنے کے لیے گھر، گرمیوں اور سردیوں میں پہننے کے لیے کپڑے

 گھر کا سامان، نقل و حمل کے لیے جانوراور گاڑیاں ۔

مسافر پر قربانی واجب نہیں خواہ وہ مالدار ہو۔

 اگر وہ نفل ثواب کے لیے قربانی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔

اگر صاحب نصاب ایک وقت میں اپنے نام سے قربانی کرے

اور اگلے سال صاحب نصاب ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔

یہ ہر سال کا حکم ہے۔ (ترمذی)

 اگر مالک نصاب اپنے نام سے نہیں بلکہ

اپنے علاوہ کسی اور کے نام سے قربانی کرے تو وہ بڑا گناہ گار ہے۔

لہٰذا اگر کوئی کسی کے لیے قربانی چاہتا ہے تو

اسے چاہیے کہ دوسرے کے لیے قربانی کا انتظام کرے۔

اگر کسی عورت کے پاس اس کے باپ کی طرف سے

زیورات اور کوئی دوسرا مال ہے جو اس کے پاس ہے جو

نصاب کی قیمت کو پہنچتا ہے تو قربانی واجب ہے۔

یہ ہر سال کا حکم ہے۔

کن جانوروں کی قربانی جائز ہے؟

نراور مادہ اونٹ، گائے، بھینس، بکری، بھیڑ، مینڈھا جائز ہیں۔

اونٹ 5 سال کا، گائے اور بھینس 2 سال، بکری، بھیڑ

اور ایک سال کا مینڈھا ضروری ہے۔

اگر جانور  چھوٹا ہو تو قربانی جائز نہیں  ہے۔

صاحب نصاب پر ایک بکری ذبح کرنااور اونٹ، گائے

اور بھینس کا ساتواں حصہ ذبح کرنا واجب ہے

قربانی کے ایام

قربانی کا وقت دس ذوالحجہ کی طلوع فجر سے لے کر بارہ ذوالحجہ کے غروب آفتاب تک ہے 

قربانی کی تاریخ دس ذوالحجہ، گیارہ  ذوالحجہ اور بارہ ذوالحجہ ہے۔

عید کی نماز سے پہلے قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔

قربانی  کے جانوروں کاگوشت اور جلد کے احکام

قربانی کا گوشت  کسی غریب اور  مالدار کو دینامستحب ہے

مستحب یہ ہے کہ جس نے قربانی کی ہو وہ بھی قربانی میں سے کچھ کھا لے۔

قربانی کرنے والے کے لیے بہتر یہ ہے کہ

وہ دس ذوالحجہ کی شام سے لے کر طلوع فجر تک کچھ نہ کھائے

اور نہ پیے اور جب قربانی ہو جائے تو  گوشت کھائے۔

بہتر یہ ہے کہ گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے کہ

ایک حصہ فقراء و مساکین کے لیے، ایک حصہ دوستوں

اور رشتہ داروں کے لیے اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کے لیے۔

اگر کسی نے میت کی طرف سے قربانی کی ہو تو وہ گوشت خود کھا سکتا ہے

اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو کھلا سکتا ہے

گر منت کی وجہ سے قربانی کی جائے تو نہ خود گوشت کھا سکتا ہے

اور نہ مالدار کو کھلا سکتا ہے بلکہ صدقہ میں دینا واجب ہے

کافر کو گوشت دینا جائز نہیں ہے

چمڑااور  گوشت اور اس کا کوئی حصہ قصاب اور ذبح کرنے والے کو معاوضہ دینا جائز نہیں ہے۔

قربانی  کے جانوروں کا چمڑا

قربانی کا چمڑا بیچنا اور رقم ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہے۔

 کوئی شخص ذاتی استعمال کے لیے چمڑے/جلد کا استعمال کر سکتا ہے۔

لوگ دینی مدارس کو جلد دیتے ہیں جو افضل اور اجر عظیم کا ذریعہ ہے۔

مدارس کو جلد بھیجنا مشکل ہوتا ہے اس لیے لوگ کھال بیچ کر

رقم مدارس کو بھیج دیتے ہیں جس میں بھی کوئی حرج نہیں۔

جانور قربان کرنے کا طریقہ

ذبح کرتے وقت چار شریانیں کاٹی جاتی ہیں۔

اگر چار میں سے تین شریانیں کٹ جائیں اور  چار شریانیں کٹ جائیں تو ذبح حلال ہے۔

اگر کسی نے جان بوجھ کر عربی عبارت نہ کہی

یعنی اللہ کا نام نہیں لیا تو جانور حرام ہے۔

اگر بھول جائے تو جانور حلال ہے۔

اگر کسی نے جانور کو مکمل طور پر ذبح کرنے سے پہلے قصاب کے حوالے کردیا تو

قصاب کو جانور کو ذبح کرنے سے پہلے عربی عبارت بھی پڑھنی ہوگی

مشرک اور مرتد کا ذبیحہ مردہ اور حرام ہے۔

قربانی کا طریقہ

جس جانور کی قربانی کی جائے اسے کھلایا جائے اور پانی پلایا جائے۔

جو چاقو استعمال کرنے جا رہا ہے اسے تیز کرنا چاہیے

جانور کو ذبح کی جگہ پر بائیں جانب منہ کر کے قبلہ کی طرف لیٹ جانا چاہیے۔

اور ذبح کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھیں

 

اِنِّى وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ اِنَّ صَلاَتِيْ
وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ للهِ رَبِّ الْعالَمِيْنَ لاَ شَرِيْكَ لَه وَبِذَلِكَ اُمِرْتَ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ اَللَّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ
 میں نے اپنا چہرہ مضبوطی سے اور سچے طور پر اس کی
طرف رکھا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔
اور میں اللہ کے ساتھ کبھی شریک نہیں کروں گا۔
بے شک میری عبادت اور میری قربانی، میرا جینا
اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔
اے اللہ! یہ قربانی آپ کی طرف سے ہے اور آپ کے لیے ہے۔”
جانور کو تیز دھار چاقو سے ذبح کرنا چاہیے۔
ذبح کرتے وقت گلے کی چار رگیں کاٹ لیں
اور کم از کم تین رگیں چھری کےتین وار سے کاٹ دیں۔
تین سے زیادہ اسٹروک نہ کاٹیں جس سے جانور کو غیر ضروری تکلیف ہو۔
جیسے ہی جانور ٹھنڈا ہو، آپ جانور کی کھال اتارنا شروع کر دیں۔
جانور کی کھال نہ اتار یں جب تک اس میں زندگی باقی ہو
کھال اتارنے سے پہلے اسے بالکل مردہ ہونا چاہیے۔

جانور کو ذبح کرتے وقت  کی دعا

جانور کو ذبح کرتے وقت یہ پڑھیں

بِسْمِ اللهِ اَللهُ اَكْبرُ

اللہ کے نام سے۔ اللہ سب سے بڑا ہے”

ذبح کے بعد پڑھی جانے والی دعا

جانور کو ذبح کرنے کے بعد کی دعا یہ پڑھیں

اَللّهُمَّ تَقَبَّلْهُ مِنِّي كَمَاْ تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِيْبِكَ مُحَمَّدٍ وَّخَلِيْلِكَ اِبْرَاهِيْمَ عَلَيهِمَا الصَّلوٰةُ الصَّلوٰة

اے اللہ مجھ سے یہ قربانی قبول فرما جیسے تو نے اپنے پیارے محمد اور اپنے دوست ابراہیم سے قبول کی ہے۔”

ان پر سلام ہو”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.