امام جعفر صادق علیہ السلام اور پرہیزگار بزرگ

امام جعفر صادق علیہ السلام اور پرہیزگار بزرگ

Imam Jafar Sadiq(a.s) And piety Old Man

 

امام جعفر صادق علیہ السلام نے سنا تھا کہ ایک بوڑھا شخص اپنی تقویٰ کی وجہ سے مشہور ہو گیا ہے۔

ایک دن اس نے اسے ایک بڑی بھیڑ میں گھرا ہوا دیکھا۔

تھوڑی دیر بعد وہ شخص ہجوم سے باہر نکلا اور ان سے دوری اختیار کرتے ہوئے

تنہا آگے بڑھا تو امام جعفر صادق علیہ السلام اس کے پیچھے چلنے لگے۔

تھوڑی دیر کے بعد امام جعفر صادق علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ ایک

بیکری کے پاس رکے ہیں جہاں سے چوری سے دو روٹیاں اٹھائے ہیں۔

تھوڑی ہی دوری کے بعد وہ پھلوں کی ایک دکان پر رکا

اسی انداز میں دو انار اٹھائے اور ایک بار پھر اپنے راستے پر چل پڑے۔

قرآن مجید کی روشنی میں برائیوں کا جواز پیش کرتے ہوئے

آگے چلتے ہوئے بوڑھا آدمی ایک بیمار کے پاس پہنچا۔

روٹیاں اور پھل ان کے حوالے کیے اور آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ

امام جعفر صادق علیہ السلام ان کے پاس آئے اور فرمایا

میں نے آپ کی طرف سے ایک بہت حیران کن چیز دیکھی ہے

اور پھر اعمال بیان کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ جس کا وہ گواہ تھا۔

 

 بوڑھے آدمی کا جواب 

 

بوڑھے نے کہامیرا خیال ہے کہ آپ امام جعفر الصادق علیہ السلام ہیں۔

 امام جعفر الصادق علیہ السلام نے اثبات میں جواب دیا۔

اس شخص نے مزید کہایہ واقعی بدقسمتی کی بات ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی

اولاد (اہل بیت) ہونے کے باوجود آپ کو کچھ معلوم نہیں ہوتا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے پوچھا کہ تم نے میری طرف سے کون سی جہالت دیکھی ہے؟

اس شخص نے کہا لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے

کہ جو کوئی نیکی لے کر آئے اس کے دس مثل ہوں گے اور

جو کوئی برائی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا۔

اس بنا پر چونکہ میں نے دو پھل اور دو روٹیاں چرائی ہیں اس لیے میرے حساب میں چار گناہ ہیں

لیکن دوسری طرف جب سے میں نے اسے خدا کی راہ میں دیا ہے میں نے چالیس نیکیاں کمائی ہیں

 چالیس سے چار کو کم کر کے اب بھی میرے کھاتے میں چھتیس نیکیاں باقی ہیں

 افسوس کہ آپ کو اس حساب کا کوئی علم نہیں۔

 

 امام جعفر الصادق علیہ السلام  کاجواب 

 

امام جعفر الصادق علیہ السلام نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا

لیکن کیا تم نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی ہے، جس میں کہا گیا ہے

اللہ صرف پرہیزگاروں سے ہی قبول کرتا ہے۔ [5:27]

ان چاروں چیزوں کو چرا کر چار گناہ اور مالک کی اجازت کے بغیر

کسی اور کو دینے کے چار گناہ کمائے تو آپ نے آٹھ گناہ جمع کیے لیکن ایک بھی نیکی نہیں کی۔

بعد میں امام جعفر الصادق علیہ السلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا

کہ اس طرح کی تاویلات اور جوازات سے نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔

 

You May Also Like:Story Of Imam Raza(a.s)

You May Also Like:Story Of Prophet Muhammad(SAW)

Leave a Reply

Your email address will not be published.