امام باقر علیہ السلام اخلاقی پہلوؤں کی بہترین مثال

امام باقر علیہ السلام اخلاقی پہلوؤں کی بہترین مثال

Imam Baqer(as) Perfect Example Of Moral Aspects

Imam Baqer(as) Perfect Example Of Moral Aspects

اللہ سبحانہ وتعالیٰ کبھی بھی کسی شخص کو امام مقرر نہیں کرے گا

اور اسے لوگوں کے لیے اپنا فیصلہ کن حجت نہیں بنائے گا جب تک کہ وہ شخص

اس مقام پر فائز نہ ہو جائے اور اپنے فضائل، اقوال اور عمل میں کمال کو نہ پہنچ جائے۔

ایسا شخص سچ کے سوا کچھ نہیں کہے گا اور نیکی کے سوا کچھ نہیں کرے گا۔

اپنے آباء و اجداد کی طرح شیعوں کے پانچویں امام امام باقر علیہ السلام بھی طرز عمل

اور دیگر اخلاقی پہلوؤں کے لحاظ سے بہترین نمونہ ہیں۔ لوگوں کے ساتھ اپنے برتاؤ میں

وہ اس قدر پاکیزہ اور عاجز تھا کہ جہاں تک ممکن ہوتا لوگوں کی خطاؤں کو معاف کر دیتا اور بھول جاتا۔

امام کا یہ انداز لوگوں کے دلوں میں گہرائی تک اتر جائے گا۔ درج ذیل روایت اس

عظیم فضیلت پر واضح طور پر دلالت کرتی ہےایک عیسائی شخص

 

مذاق اڑانے کا ارادہ

 

جس نے امام باقر علیہ السلام کا مذاق اڑانے کا ارادہ کیا تھا، اس نے لفظ

باقر (علم کو پھیلانے والے) کو باقر (گائے) میں بدل دیا اور امام باقر علیہ السلام کو توہین آمیز خطاب کیا۔

امام باقر علیہ السلام نے غم اور غصے کی کوئی علامت ظاہر کیے بغیر صرف

جواب دیا: “نہیں، میں باقر نہیں ہوں، میں باقر ہوں۔”عیسائی نے آگے کہا: “تم اس

عورت کے بیٹے ہو جو باورچی تھی۔”امام باقر علیہ السلام “یہ اس کا کیریئر تھا

یہ شرمناک نہیں ہے۔”عیسائی: “تمہاری ماں سیاہ فام، بدتمیز اور بدتمیز تھی۔”

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم میری ماں پر یہ الزام لگاتے ہو تو میں اللہ تعالیٰ

سے ان کے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں اور اگر وہ جھوٹے ہیں تو میں اللہ تعالیٰ سے

تمہارے الزامات اور جھوٹوں کی معافی مانگتا ہوں۔

عیسائیوں کے انقلاب اور اسلام کی طرف راغب ہونے کے

لیے امام باقر علیہ السلام کا صبر کافی تھا۔ بعد میں وہ مسلمان ہو گیا۔

 

You May Also Like: The Story Of Prophet Muhammad Visit to Taif

Leave a Reply

Your email address will not be published.