رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طنز و مزاح

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طنز و مزاح

Humor and Jesting of The Prophet Muhammad (saw)

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طنز و مزاح

 ہنسی مذاق اور مزاح کا اچھا احساس شخصیت کی دلکش خصوصیات ہیں۔

وہ ایک نئی قوت ہیں جو لوگوں کو تندہی اور جوش کے ساتھ کام کرنے کی

ترغیب دیتی ہیں  طنز و مزاح میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ شریعت کے

احکام کی پابندی ہو اور کوئی نقصان نہ ہو  بلکہ  یہ ضروری اور مطلوب ہے۔

کیونکہ لوگ تھکاوٹ اور بوریت کا تجربہ کرتے ہیں اور اس وجہ سے  تفریح ​​

کے وقفے کی ضرورت ہوتی ہے  ہنسی مذاق کی اہمیت اور ضرورت اس

سے بڑھ کر کوئی چیز ثابت نہیں کرتی ہے کہ آقا مخلوق اور خاتم النبیین

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بڑھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

اپنے ساتھیوں اور اہل و عیال کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے  چھوٹے

بچوں کی طرف توجہ دیتے تھے اور اپنا کچھ وقت ان کے لیے وقف کرتے تھے۔

اُس نے اُن پر زیادہ بوجھ ڈالے بغیر اُن کے ساتھ نرمی سے برتاؤ کیا جو وہ

Humor and Jesting of the Prophet برداشت یا سمجھ نہیں سکتے تھے۔

 

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ

 

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاحیہ انداز میں فرمایا اے دو کانوں والے

  ابو داؤد، ترمذی، البانی: صحیح

ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم

سے سواری مانگیں  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طنزیہ انداز میں فرمایا میں

تمہیں اونٹنی کا بچہ دوں گا کہ اس پر سوار ہوں  اس آدمی نے کہا یا رسول اللہ

میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  کیا

Humor and Jesting of the Prophet .اونٹ اونٹنیوں کے علاوہ کسی اور چیز سے پیدا ہوتے ہیں

احمد، ابوداؤد، البانی: صحیح (مستند)

 

البخاری و مسلم

 

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہترین اخلاق

والے تھے  میرا ایک بھائی تھا جس کا نام ابو عمیر تھا  جب رسول اللہ صلی

اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لاتے تو فرماتے: اے ابو عمیر! نُغیر (چھوٹی شبلی)

نے کیا کیا نُغیر ایک چھوٹا پرندہ تھا جس کے ساتھ نوجوان ابو عمیر کھیلا کرتا تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک آدمی کو طنزیہ انداز میں چھڑی ماری

جو اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی  اسید بن حذیر رضی اللہ عنہ سے روایت

ہے کہ جب وہ (اسید) لوگوں سے ہنسی مذاق میں باتیں کر رہے تھے اور انہیں

ہنسا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  اسے چھڑی سے پسلیوں

کے نیچے ٹھونس دیا  اسید نے کہا: مجھے بدلہ لینے دو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے فرمایا انتقام لے لو  اسید نے کہا: تم نے قمیص پہنی ہوئی ہے لیکن میں نہیں

 اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اٹھائی تو اسید نے آپ

کو گلے لگایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر اور پسلی کے درمیان چومنا شروع کر

دیا اور فرمایا  میں یہی چاہتا تھا  یا رسول اللہ ۔ابو داؤد، اور البانی: صحیح (صحیح)

 

جریر رضی اللہ عنہ

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے ہمیشہ مسکراتے تھے  ان کے ساتھ

اچھی زبان استعمال کرتے تھے  اور کھلے دل اور شائستہ رویے کے ساتھ ان کی

شکایتیں قبول کرتے تھے  جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

نے جب سے اسلام قبول کیا ہے مجھ سے کبھی پردہ نہیں کیا  وہ جب بھی مجھے دیکھتا

 مجھے دیکھ کر مسکرا دیتا۔ میں نے اس سے شکایت کی کہ میں گھوڑوں پر مضبوطی سے

نہیں بیٹھ سکتا  تو اس نے مجھے اپنے ہاتھ سے سینے پر مارا اور کہا  اے اللہ  اسے ثابت قدم

رکھ اور اسے  حق کی طرف  رہنما بنا اور اسے ہدایت یافتہ بنا۔ بخاری

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مذاق بھی کیا کرتے تھے۔

اس نے ایک دفعہ اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اپنے چچا زاد بھائی اور داماد

علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان میں جھگڑا ہو گیا

تھا اور وہ چلا گیا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں لیٹا پایا اور

طنزیہ انداز میں ان سے فرمایا اُٹھ، اے ابو تراب (مٹی سے ڈھکے ہوئے)!

Humor and Jesting of the Prophet اٹھو اے ابو تراب ۔بخاری ومسلم

 

بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا

 

جہاں تک اپنی بیویوں، بیٹیوں اور گھر والوں کے ساتھ ان کے حس مزاح کا تعلق

ہے  تو اس سلسلے میں ان کے احسان مندانہ رویے کا سب سے بڑا حصہ ان کا تھا۔

وہ اپنی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ دوڑ لگاتے تھے اور انہیں اپنی سہیلیوں

کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دیتے تھے  وہ کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

کی بارگاہ میں گڑیوں سے کھیلتی تھی اور میری کچھ سہیلیاں بھی تھیں جو میرے ساتھ

کھیلتی تھیں  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری رہائش  گاہ  میں داخل ہوتے

تو وہ چھپ جاتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بلاتے کہ میرے ساتھ ملیں اور

Humor and Jesting of the Prophet میرے ساتھ کھیلیں۔ البخاری

 

عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ

 

جہاں تک چھوٹے بچوں اور ان کی دیکھ بھال اور ان کے ساتھ ہنسی مذاق کا تعلق ہے

 یہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے بارے میں درج ذیل رپورٹ میں واضح ہے۔

عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  وہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت

کرتے ہیں  انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔

رات کی نمازوں میں سے ایک  یعنی مغرب یا عشاء کی نماز اور وہ حسن یا الحسین کو

Humor and Jesting of the Prophetاٹھائے ہوئے تھے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور آپ کو نیچے بٹھایا، پھر تکبیر کہی اور نماز

پڑھنے لگے  اس نے اپنی نماز میں سجدہ کیا اور سجدہ کو لمبا کیا  میرے والد (راوی)

نے کہا  میں نے اپنا سر اٹھایا تو دیکھا کہ بچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر

ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کر رہے تھے  چنانچہ میں واپس سجدے میں

چلا گیا  جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں نے

عرض کیا  یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نماز میں اتنی دیر تک سجدہ کرتے

رہے کہ ہم نے سوچا کہ کچھ ہو گیا ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وصول کر رہے

ہیں۔ وحی” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا کچھ نہیں ہوا  لیکن میرا بیٹا میری

پیٹھ پر سوار تھا اور میں اسے اس وقت تک پریشان کرنا پسند نہیں کرتا تھا جب تک کہ

وہ کافی نہ ہو جائے۔احمد اور عن نسائی، البانی: صحیح (صحیح)

 

اسلام میں تفریح ​​کیاجازت

 

مندرجہ بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں مزاح اور مزاح کی کافی

گنجائش ہے اور بعض اوقات سنجیدگی اور مہذب مذاق میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔

جس طرح دلوں اور روحوں کی پرورش اور جسم کی تندرستی کو برقرار رکھنے کے لیے

ہدایات شامل کی ہیں اسی طرح اسلام نے تفریح ​​کی بھی اجازت دی ہے اور جو

چیز دلوں کو خوشی اور مسرت بخشتی ہے۔

 

You May Also Like: Story of the Jewish Woman And Prophet Muhammad

You May Also Like: Hazrat Ali R.A.

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.