شب برات کی صداقت قرآن و سنت سے

شب برات کی صداقت قرآن و سنت سے

From The Holy Quran And Sunnah

Authenticity of Shab-e-Barat

Shab-e-Barat

 

شب برات مسلمانوں میں خاص طور پر پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش

ملائیشیا، انڈونیشیا اور مالدیپ میں منائی جاتی ہے۔

جیسے ہی اسلامی کیلنڈر کا ساتواں مہینہ رجب ختم ہوتا ہے، قمری کیلنڈر کا آٹھواں

مہینہ شروع ہوتا ہے، اس مہینے کو شعبان کہا جاتا ہے۔ اس کی اہمیت شعبان کی پندرہویں

شام سے ہے جسے عرب دنیا میں لیلۃ البراء یا لیلۃ النصف من شعبان کے نام سے پہچانا جاتا ہے

 برصغیر، خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان میں، جس رات کو ہم شب برات کہتے ہیں۔

اگرچہ رات کے بارے میں بہت سے عقائد اور وہم ہیں، لیکن صرف معتبر احادیث یا

قرآنی آیات سے تائید شدہ کو ہی صحیح اور مقدس سمجھا جا سکتا ہے۔

تحریک منہاج القرآن کے مطابق

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو

یاد کر کے بقیع کے پاس گئیں (اور آپ کو مل گئیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کیا تم ڈرتے ہو کہ اللہ تم پر ظلم کرے گا اور اس کا نبی تم پر ظلم کرے گا عرض کیا

اے اللہ کے رسول میں نے سوچا کہ آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کی عیادت کے لیے

تشریف لے گئے ہوں گے، آپ نے فرمایا: اللہ عزوجل نصف شعبان کی رات

قریب ترین آسمان پر نزول فرماتا ہے اور بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کو بخش دیتا ہے

ایک مکتبہ فکر کے مطابق شب برات جشن کی رات یا جہنم کی آگ سے آزادی کی

شام کی صحیح تشریح کرتی ہے سورہ دخان کے مطابق اسی طرح کا ایک مکتبہ فکر

اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ درج ذیل آیت کی مبارک شام شب برات ہے۔

یقیناً ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں اتارا ہے

اس (رات) میں ہمارے حکم سے حکمت کے تمام معاملات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

شعبان کا پورا مہینہ بہت اہم ہےاس کی اہمیت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے معلوم ہوتی ہے

عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک اور روایت میں ہے؛

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس رات کیا ہوتا ہے یعنی شعبان کی درمیانی رات (یعنی شب برات)

اس نے عرض کیا یا رسول اللہ اس میں کیا ہوتا ہے آپ نے جواب دیا اس میں ہر انسان کا

ریکارڈ ہے جو پیدا ہونے والا ہے اور ہر انسان کا جو اس سال مر جائیں گے اس میں

ان کے اعمال آسمان پر اٹھائے جائیں گے اور ان کے رزق میں اتارے جائیں گے

قرآن کے مطابق

اگرچہ، بہت سارے رجحانات کے باوجود، دوسرے مکاتب فکر ان کے خیال میں مختلف ہیں

 بعض کے نزدیک شبِ آزادی کا کوئی سیدھا تعین نہیں ہے اور نہ ہی کوئی براہِ راست پس منظر ہے

سوائے کہانیوں اور عبارتوں کو سیاق و سباق سے ہٹ کر محفوظ کیا گیا ہے جیسا کہ

سورۃ الدخان میں مذکور آیت کا تعلق ہے 

یہاں جس رات کا تذکرہ کیا گیا ہے وہ شعبان کی رات نہیں ہو سکتی کیونکہ

یہاں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ قرآن اسی رات میں نازل ہوا ہے ہمیں

سورۃ القدر سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا نزول شب قدر میں ہوا ہے۔

قرآن (البقرہ 2.185) کہ قرآن رمضان کے مہینے میں نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ

قرآن کے نزول کی رات رمضان میں تھی شعبان میں نہیں تھی اور

یہ لیلۃ القدر تھی نہ کہ شب برات (یا شعبان کی رات

شعبان کے روزے کے علاوہ شب برات کا ہر دوسرا پہلو متنوع خیالات اور

نظریات کے لیے غیر یقینی ہے۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ افراد شعبان کی 14 اور 15ویں

شام کو اپنے گھروں میں  دعا کریں۔

سنت کے مطابق

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک بابرکت

رات ہے جس میں اہل زمین پر خصوصی رحمتیں نازل ہوتی ہیں ان میں سے بعض روایات درج ذیل ہیں

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اللہ تبارک وتعالیٰ نصف شعبان کی رات میں اپنے بنائے ہوئے تمام لوگوں پر

نظر فرماتا ہے اور ا تمام لوگوں کو بخش دیتا ہے سوائے اس

کے جس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا یا جس کے دل میں (مسلمان کے خلاف) کینہ ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات میں نازل ہوتا ہے

(جس طرح وہ بہتر جانتا ہے)

اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے ریشوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی بڑی تعداد کو بخش دیتا ہے۔

کلب ایک بڑا قبیلہ تھا جس کے ارکان میں بھیڑ بکریاں بہت زیادہ تھیں

لہٰذا حدیث کا آخری جملہ ان لوگوں کی کثیر تعداد کی طرف اشارہ کرتا ہے

جن کی اس رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت ہوتی ہے۔

ایک اور روایت میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ

آپ نے فرمایا: یہ شعبان کی درمیانی رات ہے اللہ اس میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو

جہنم سے آزاد کرتا ہے 

لیکن وہ اس شخص کی طرف بھی نہیں دیکھتا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے

یا اس شخص کی طرف جو اپنے دل میں (کسی کے خلاف) بغض پالتا ہے، یا اس

شخص کی طرف جو رشتہ توڑتا ہے، یا اس شخص کی طرف جو اپنا لباس چھوڑ دیتا ہے۔

اپنے ٹخنوں سے آگے بڑھانا (فخر کی علامت کے طور پر) یا ایسے شخص پر جو اپنے

والدین کی نافرمانی کرتا ہے، یا ایسے شخص پر جس کو شراب پینے کی عادت ہے۔

ان میں سے بعض احادیث کا سلسلہ منقطع ہے لیکن جب ان تمام احادیث کو

جمع کیا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس رات کی چند اچھی فضیلتیں ہیں اور

اس رات کو مقدس رات کے طور پر منانا کوئی بے بنیاد قیاس نہیں ہے۔

یہاں ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ حسن حدیث بھی صحیح اور معتبر ہے کیونکہ یہ صحیح

حدیث کی قسم ہے اور اگر ضعیف حدیث کو متعدد منابع سے ذکر کیا جائے تو وہ

صحیح حدیث کے درجے پر اتنی قوی اور بلند ہو جاتی ہےاس کے علاوہ اگر

ضعیف حدیث زیادہ ضعیف نہ ہو اور ضعیف حدیث کے خلاف کوئی صحیح

حدیث نہ ہو تو اسے طہارت کی دلیل تسلیم کیا جاتا ہے۔

اس لیے کسی ضعیف حدیث کو ضعیف یا ضعیف کہہ کر نظرانداز کرنے کا کوئی موقع نہیں ہے

 سب سے اہم بات یہ ہے کہ شب برأت کی فضیلت کے ثبوت کے لیے ہمیں زیادہ صحیح

احادیث کی ضرورت نہیں ہے پھر بھی شب برأت کی فضیلت اور عظیم دلیل کے لیے

صرف ایک صحیح حدیث ہی کافی ہے۔

You May Also Like:Dua’s At Shab-E-Barat With Quranic Ayat

 

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.