چرواہے اور نبی موسیٰ (علیہ السلام) کی کہانی

چرواہے اور نبی موسیٰ (ع) کی کہان

The Herdsman and Nabi Moosa(a.s) Story

 

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ایک ’’مجوب‘‘ چرواہا تھا جس کا دل محبت الٰہی سے لبریز تھا۔

جب وہ پہاڑی چراگاہوں میں اپنی بھیڑ بکریاں چراتا تھا تو اللہ تعالیٰ کی محبت میں غمزدہ ہو کر یہ دعا کرتا تھا

اے اللہ! آپ مجھ سے کہاں ملیں گے؟ اگر آپ مجھ سے ملیں گے تو میں آپ کا خادم بنوں گا

آپ کے کپڑے سلاؤں گا آپ کے بالوں میں کنگھی کروں گا

اور اگر آپ کبھی بیمار پڑیں تو میں آپ کو تسلی دوں گا۔ اے اللہ! اگر میں تیرا گھر دیکھوں

تو دن رات تیرے لیے دودھ اور مکھن لاؤں گا۔ میں آپ کے ہاتھ چوموں گا اور آپ کی ٹانگوں کی مالش کروں گا۔

جب تیرے سونے کا وقت آئے گا تو میں تیرے سونے کی جگہ کو صاف کروں گا۔

اے اللہ! میری تمام بھیڑیں تیرے لیے قربان ہیں۔ اے اللہ!میں اپنی بھیڑوں اور بکریوں

کے بارے میں جو بھی الفاظ کہتا ہوں وہ درحقیقت تیری محبت میں کہتا ہوں۔

بھیڑ صرف ایک  ہیں گلہبان  اللہ تعالیٰ سے اپنی حد سے زیادہ محبت کی پریشان حالت میں اپنا دل کھول رہا تھا۔

چرواہا اللہ تعالیٰ کے حضور اپنا دل ان محبت بھرے الفاظ سے کھول رہا تھا

کہ اچانک حضرت موسیٰ علیہ السلام اس راستے سے گزرے اور یہ الفاظ سنتے ہی آپ نے فرمایا

 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا

 

اے چرواہے، کیا تمہیں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی بندے کی ضرورت ہے؟

کیا اس کے پاس سر ہے کہ تم اس کے بالوں میں کنگھی کر سکو؟

کیا وہ بھوکا ہے کہ تم اسے بکری کا دودھ پیو؟اللہ تعالیٰ آپ کی خدمت کا قطعاً محتاج نہیں ہے۔

چرواہے نے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ باتیں سنی تو اپنے آپ پر شرمندہ ہوا۔

خوف اور دکھ کے عالم میں اس نے اپنے کپڑے پھاڑ لیے اور بلک بلک کر روتے ہوئے صحرا کی طرف بھاگنے لگا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی۔اے موسیٰ تو نے میرے بندے کو مجھ سے کیوں بھگایا؟

میں نے تجھے ان کے ساتھ ملانے کے لیے بھیجا ہے، نہ کہ انھیں مجھ سے پھیرنے کے لیے۔

موسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوئی۔

تم نے میرے بندے کو مجھ سے الگ کیوں کیا؟ایسے آداب اہل عقل کے لیے ہیں۔

آہ! چرواہا اہل عقل میں سے نہیں تھا۔وہ جس کے کپڑے الہٰی محبت سے پھٹے ہیں

اُس کے کپڑے سچائی سے درست نہیں ہوتے۔میرا محبوب کس طرف بھاگا؟

کہاں گیا میرا دیوانہ عاشق؟حالانکہ محبت کی کوئی وجہ اور عقل نہیں ہوتی

لیکن بہت سے اہل عقل اس کے غلام ہیں۔اور اگرچہ ظاہری طور پر اس کے الفاظ بے جا لگتے تھے۔

لیکن اندر سے اس کا دل صاف تھا۔اگرچہ ظاہری طور پر اس نے اہانت آمیز الفاظ کہے

لیکن معنی میں وہ محبت اور روح کے الفاظ تھے۔میرے دیوانے عاشق کے الفاظ اے موسیٰ

میری عظمت کی عدالت ان کی تلاش میں ہے ۔

 

سبق

 

اس قصے سے سبق یہ ہے کہ کسی کو نصیحت یا نصیحت کرتے وقت یہ یاد رکھنا چاہیے

کہ جس شخص کو آپ نصیحت کر رہے ہیں وہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو۔

اس طرح کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے دل سے محبت کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے بھی

توہین آمیز اور توہین آمیز یہ شاید ان کی بے پناہ محبت کی وجہ سے ہے اور درحقیقت بے عزتی نہیں ہے

 حالانکہ باہر والوں کو ایسا لگتا ہے۔مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں

“عاشق خدا کی اس سے گفتگو جو عشق کے دل سے نکلتی ہے، بے عزت نہیں ہوتی۔”

 

You May Also Like:The Story Of First Fitna Of Bani Israil

You May Also Like:Death Of Prophet Sulaiman

Leave a Reply

Your email address will not be published.