حضرت رابعہ بصری رضی اللہ عنہ  کی کہانی 

حضرت رابعہ بصری رضی اللہ عنہ  کی کہانی 

The Hazrat Rabiya Basri(r.a) Story

 

رابعہ بصرہ ایک صوفی بزرگ تھیں جو اپنی مقدس زندگی کے لیے منائی جاتی تھیں۔

درحقیقت وہ دنیا کی سب سے مشہور صوفی خاتون ہیں۔ وہ بصرہ کی رہنے والی تھیں اور قبیلہ عدی سے تعلق رکھتی تھیں۔

وہ دنیا کے کچھ حصوں میں حضرت بی بی ایک دفعہ رابعہ بصریہ کے پاس کچھ مہمان آئے۔

نوکرانی نے آکر کہا کہ دروازے پر دستک ہوئی ہے اور ایک آدمی روٹیاں لے کر آیا ہے۔

رابعہ نے کہا گنو کتنے ہیں؟ نوکرانی نے شمار کیا اور کہا کہ وہ 9 ہیں، رابعہ نے کہا

نہیں یہ میرا حصہ نہیں، آدمی کے پاس واپس آؤ اور اسے کہو کہ وہ چلا جائے۔

پھر دوسری دستک ہوئی، نوکرانی آئی اور کہنے لگی دروازے پر ایک آدمی ہے وہ روٹیاں لے کر آیا ہے۔

رابعہ نے کہا گنو کتنے ہیں؟ نوکرانی نے شمار کیا اور کہا کہ وہ 9 ہیں، رابعہ نے کہا، نہیں یہ میرا حصہ نہیں

 آدمی کے پاس واپس آؤ اور اسے کہو کہ وہ چلا جائے۔ تیسری بار دستک ہوئی، نوکرانی نے کہا

ایک بار پھر ایک آدمی روٹیاں لایا ہے، رابعہ نے پوچھا کتنی ہیں؟ نوکرانی نے کہا ۔ رابعہ نے کہا

نہیں یہ میرا حصہ نہیں ہے، آدمی کے پاس واپس آؤ اور اسے کہو کہ وہ چلا جائے۔

نوکرانی نے کہا کہ جب آپ کو ان کی ضرورت ہے تو آپ یہ روٹیاں کیوں نہیں لے رہے ہیں

کہ آپ کے پاس مہمان ہیں۔ رابعہ نے اسے سمجھایا کہ آج صبح میرے پاس روٹی تھی

جب ایک فقیر آیا اور میں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا کے لیے اسے روٹی دے دی

تو یہ میرا اللہ کا وعدہ ہے کہ رابعہ بصری، رابعہ البصری یا محض رابعہ بصری کے نام سے مشہور ہیں۔

 

رب  پر  کامل یقین

 

کہ جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کو اس کے برابر دس گنا اجر ملے گا۔9 روٹیاں میری نہیں ہو سکتیں۔

نوکرانی نے استغفار کیا، کہ مجھے بھی بھوک لگی ہے اور دسویں روٹی میں خود رکھ لیتی تھی

 وہ اصل میں 10 سال کی تھیں جب وہ آئیں، اپنے رب کے وعدے پر اتنا کامل یقین۔

حضرت رابعہ بصری رضی اللہ عنہا کو آج بھی آٹھویں صدی کے عظیم اولیاء میں سے ایک

کے طور پر یاد کیا جاتا ہے اور ان کے ایمان، تقویٰ اور صبر کے لیے عقیدت و محبت سے یاد کیا جاتا ہے۔

اسلام کی عظیم خاتون صوفیانہ بزرگ نے عقیدت، مراقبہ، غور و فکر، صبر  کے ساتھ ساتھ خوف خدا

اور بھروسے کے ذریعے اپنے آپ کو فتح کیا تھا۔  حضرت رابعہ بصری رضی اللہ عنہا مسلسل

خدا کی فکر میں مشغول تھیں اور تصوف کی معراج یعنی فنا فِلّہ پر پہنچ چکی تھیں۔

ایک اور واقعہ جس نے مجھے واقعی چھو لیا وہ واقعہ ہے

ایک دن عبدالواحد اور صوفیان تسوری رابعہ کو اس کی بیماری میں دیکھنے گئے۔ وہ اس کی کمزوری کو دیکھ کر

اس قدر متاثر ہوئے کہ کچھ لمحوں کے لیے وہ ایک لفظ بھی نہ بول سکے۔ آخر کار صوفیان نے کہا

اے رابعہ دعا کرو کہ رب تمہاری تکلیف کو ہلکا کرے۔ ’’اے سفیان‘‘ اس نے جواب دیا

 مجھے یہ تکلیفیں کس نے بھیجی ہیں؟ ’’اعلیٰ ترین‘‘ اس نے کہا۔ بہت اچھا اس نے جواب دیا

 اگر اس کی مرضی ہے کہ یہ آزمائش مجھ پر آئے، تو میں اس کی مرضی کو نظر انداز کرتے ہوئے

اس سے اس کو دور کرنے کے لیے کیسے کہہ سکتی ہوں؟

 

حضرت رابعہ بصری رضی اللہ عنہا کا ایک اقتباس 

 

اس کا ایک اقتباس جو مجھے خاص طور پر پسند ہے وہ ہے

میں جنت میں آگ روشن کرنے جا رہا ہوں اور جہنم پر پانی ڈالنے جا رہا ہوں

تاکہ دونوں پردے بالکل غائب ہو جائیں اور خدا کے بندے بغیر کسی امید

اور خوف کے مقصد کے اسے دیکھ سکیں۔ اگر جنت کی امید اور جہنم کا خوف نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ 

 

You May Also Like:The Herdsman and Nabi Moosa(a.s) Story

You May Also Like:The Story Of First Fitna Of Bani Israil

Leave a Reply

Your email address will not be published.