حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دمشق کا دوسرا تجارتی سفر

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دمشق کا دوسرا تجارتی سفر

Hazrat Mohammed (saw)Second Business trip To Damascus

Hazrat Mohammed (saw)Second Business trip To Damascus

 

جب قریش کا تجارتی قافلہ دمشق (شام) کی طرف بڑھنے کے لیے تیار تھا

اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سفر کے لیے انتظامات کر لیے تھے

اور قافلہ میں شامل ہونے والے تھے تو حضرت خدیجہ بنت خویلد نے اپنی خادمہ میسرہ کو حکم دیا۔

اس کے ساتھ دمشق تک جانا اور اس کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا۔

ظاہر ہے کہ اس تاریخی سفر کی تفصیل بیان کرنا ممکن نہیں ہے، اور ہم مندرجہ ذیل نکات

کا ذکر کر کے اپنے آپ کو مطمئن کرتے ہیں: اس سفر نے بہت سی برکات اور بہت سی خوشیاں نصیب کیں

 جیسے تجارت میں بے پناہ منافع، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر۔

کارواں میں لوگوں کے لیے شاندار شخصیت، عیسائی راہب سے ملاقات

اس کی پیشین گوئی کی پیشین گوئی، اور ایک مبارک ازدواجی اتحاد کے ابتدائی اسباب۔

تجارت ختم ہوئی تو قافلہ دمشق سے واپس آیا۔میسرہ نے حضرت خدیجہ بنت خویلد کے سفر

کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا، جس میں انہوں نے بہت زیادہ، بے مثال منافع حاصل کیا تھا۔

اس نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بہترین کردار اور ان کی سخاوت کے ساتھ ساتھ

 

معزز خاتون

 

اس سفر کے دوران ظاہر ہونے والی ان کی بہت سی دیگر خوبیوں کے بارے میں بھی بتایا۔

یہ سن کر اور ایک عالم یہودی آدمی کی اپنے الٰہی کردار اور قریش کی سب سے معزز خاتون

کے ساتھ اس کی شادی کے بارے میں پیشین گوئیاں سن کر حضرت خدیجہ بنت خویلد نہ

صرف اپنے پاکیزہ دل میں اس کی محبت کو پالنے لگیں بلکہ اس کا احساس بھی ہوا۔

کہ وہ اس کا مثالی شوہر تھا۔اس کے علاوہ ان کے چچا ورقہ بن نوفل نے

ان سے آخری نبیوں کی پیشین گوئیوں اور حضرت خدیجہ بنت خویلد سے ان کی شادی

کی خوشخبری کے بارے میں بات کی تھی۔ ان الفاظ نے بھی اس کی محبت اور جوش میں اضافہ کیا۔

لیکن وہ اس سے اپنی خواہش اور آسمانی پیار کے بارے میں کیسے بات کرتی؟

حضرت خدیجہ بنت خویلد کے لیے یہ اتنا آسان نہیں تھا جو خود قریش کی سب سے معزز خاتون تھیں۔

 

You May Also Like: Shoaib Abi Talib History Valley

Leave a Reply

Your email address will not be published.