حضرت علی رضی اللہ عنہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ

Hazrat Ali R.A.


حضرت امام علی رضی اللہ عنہ،ابو طالب بن عبد المطلب کے بیٹے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ 13 رجب بروز جمعہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔

آپ کی والدہ کا نام حضرت فاطمہ بنت اسد تھا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پرورش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان میں ہوئی

اور وہ ہمیشہ ایک قابل اعتماد ساتھی ثابت ہوئے۔

آپ کی شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔

پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ ان کی اعلیٰ خدمات اور خوبیوں کا لحاظ کیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حدیث میں جو حمد و ثنا کا درجہ پایا جاتا ہے

اس کی مثال کسی اور صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ملتی۔

 

 حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات 

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی میرا دروازہ ہے۔

ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا

علی رضی اللہ عنہ بھی ان سب کے مولا (روحانی پیشوا) ہیں جو مجھے اپنا مولا مانتے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ  اسلام کے پہلے امام اور چوتھے خلیفہ تھے۔

حضرت علیؓ نے ہمیشہ اسلام کے لیے جدوجہد کی۔

ان پر عبدالرحمٰن ابن ملجم نامی شخص نے 19 رمضان المبارک ہجری کیلنڈر کے 40

ویں سال کو مسجد میں  اس وقت حملہ کیا جب وہ نماز فجر ادا کر رہے تھے۔

وہ شدید زخمی ہو گئے اور حملے کے بعد جب وہ اپنے گھر واپس آئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں کو کچھ نصیحتیں کی

جب ان کے قاتل کو پکڑ کر ان  کے سامنے لایا گیا تو انہوں نے دیکھا کہ اس کا چہرہ خوف سے پیلا پڑ گیا

اور اس کی آنکھوں  سے آنسو جاری تھے۔ اس تحریک پر بھی انہیں  اپنے قاتل پر ترس آیا۔

انہوں نے اپنے بیٹوں حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین کو نصیحت کی کہ

اب سے یہ شخص ان کا قیدی ہے اور اس  کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔

انہیں وہی کھانا دینا چاہئے جو وہ کھاتے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر میں ٹھیک ہو گیا تو فیصلہ کروں گا کہ سزا دوں یا معاف کروں۔

لیکن اگر میں زندہ نہ رہ سکا اور وہ بدلہ لینا چاہتے ہیں تو انہیں بھی اس کو صرف ایک کٹ دینا چاہئے
جیسا کہ اس  نے   انہیں
ایک ہی کٹ دیا تھا۔

انہوں نے انہیں یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے بازو اور ٹانگیں نہ کاٹیں کیونکہ یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

 

You May Also Like: Perfect Way To Celebrate The Birth of Prophet Muhammad (PBUH)

Leave a Reply

Your email address will not be published.