شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی قبر

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی قبر

The Grave of Shaddad bin Aus (r.a)

The Grave of Shaddad bin Aus (r.a)

 

یہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی قبر ہے اور شیروں کے دروازے کے

قریب مسلمانوں کے قبرستان میں واقع ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سے براہ راست متعدد احادیث روایت کیں۔

وہ ابو عبدالرحمٰن کے نام سے بھی مشہور تھے۔ وہ انتہائی بردبار شخص

کے طور پر جانے جاتے تھے اور بہت کم بولتے تھے۔

ایک مرتبہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی تنگدستی کی شکایت کی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی اور فرمایا کہ

غریبی کبھی تمہارا مقدر نہیں بنے گی۔ شام فتح ہو جائے گا اور مال غنیمت حاصل ہو گا۔

آپ کے بچے بیت المقدس کے امام بنیں گے۔شام کی فتح کے وقت مال غنیمت

اکٹھا کیا گیا اور 500 آدمیوں کا لشکر مدینہ منورہ منتقل کرنے کے لیے روانہ کیا گیا

تاکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کو اس گروہ کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

وہ کہتے ہیں کہ جب میں مال غنیمت لے کر مدینہ منورہ پہنچا تو لوگوں نے ہمیں دور سے دیکھا

اور لوگوں کے ایک بڑے قافلے کو آتے دیکھا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ

نے دریافت کیا کہ یہ ہنگامہ کیا ہے تو انہیں بتایا گیا کہ مسلمان فتح یاب ہوئے اور شداد غنیمت لے کر پہنچ گیا۔

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ

Shaddad bin Aus (r.a)

 

شداد رضی اللہ عنہ سب سے پہلے مسجد میں داخل ہوئے اور دو رکعت نماز ادا کی

اور پھر سلام پھیرنے کے لیے روضہ مبارک کی طرف روانہ ہوئے۔

شاید اسی وقت اس نے سوچا کہ کس طرح اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

سے اپنی غربت کی شکایت کی تھی اور اس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی

پیشین گوئی واقعی ان کی آنکھوں کے سامنے پوری ہو گئی تھی۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد وہ فلسطین چلے گئے۔

فلسطین میں 58 ہجری میں 55 سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا

ابو درداء رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ بہت سے لوگ علم حاصل کرتے ہیں

لیکن ان میں برداشت نہیں، ابو یعلیٰ یعنی شداد رضی اللہ عنہ دونوں کے پاس تھے۔ علم اور حلم (برداشت)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.