اسلام میں اعتماد اور تقریر کے لیے دعا

اسلام میں اعتماد اور تقریر کے لیے دعا

Dua For Confidence And Speech In Islam

 

Dua-For-Confidence-And-Speech-In-Islam

 

اسلام میں اعتماد اور تقریر کے لیے دعا یہ پڑھیں

رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي

میرے رب میرے لیے میرا سینہ کشادہ کر دے اور میرے لیے میرا کام آسان کر دے”

اور میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں”۔

سورہ طہ آیت پچیس – اٹھائیس میں اعتماد اور تقریر کی  دعا موجودہے

اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کوحکم دیا “فرعون کے پاس جاؤ۔

بیشک فرعون نے زیادتی کی (سورہ طہ آیت بیس: چوبیس)۔

موسیٰ علیہ السلام  ذمہ داری سے اختلاف نہیں کرتے  تھے جو اللہ حکم دیتا تھا۔

موسیٰ علیہ السلام  اپنے کردار کو احسن طریقے سے قبول کرتا تھا

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اعتماد اور تقریر 

  موسیٰ علیہ السلام کو بچپن میں تقریر کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

موسیٰ علیہ السلام نے بچپن میں فرعون کی داڑھی کے بال  کھینچے۔

فرعون کوخطرہ تھا کہ موسیٰ علیہ السلام ایک  دن میرا تختہ الٹ دے گا 

فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی دھمکی دی

لیکن فرعون  کی بیوی آسیہ نےموسیٰ علیہ السلام کی حفاظت کی

 مذکورہ آیت میں موسیٰ علیہ السلام  کی گفتگو کو مبہم قرار دیا گیا ہے۔

موسیٰ علیہ السلام فرعون کا مقابلہ کرنے کے کام کوبھاری بوجھ محسوس کرتا ہے

موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتا تھا

اور یہ دعا مانگتاتھا  کہ وہ اپنی بات میں اعتماد پیدا کرے۔

موسیٰ علیہ السلام نے فرما یاکہ “میرے رب، میرے خالق، میرا سینہ کھول دے”۔

سینے کا لفظی مطلب ہے یقین دلانا اور اعتماد دینا

ہم اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ  سے

اعتماد اور تقریر کی دعا کرتے ہیں کہ  ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.