باب الذہبی (گولڈن گیٹ)

باب الذہبی (گولڈن گیٹ)

Bab ad-Dhahabi (Golden Gate)

Bab ad-Dhahabi (Golden Gate)

 

گولڈن گیٹ (جسے باب الذہبی بھی کہا جاتا ہے) مسجد الاقصی کی مشرقی دیوار

کے اندر کھدی ہوئی ایک قدیم تاریخی دروازہ ہے۔

یہ قرون وسطیٰ کے زمانے سے ہی دیوار سے لگا ہوا ہے۔

گولڈن گیٹ کی تعمیر کی صحیح تاریخ پر بازنطینی کے اواخر سے لے کر اموی دور

کے ابتدائی دور کے درمیان اختلاف رائے ہے۔

یہ دو دروازوں پر مشتمل ہے ایک جنوب الرحمہ کی طرف رحمت اور

دوسرا شمال کی ط رف (التوبہ – توبہ)۔ رحمت کے دروازے کا نام

رحمت (رحمہ) قبرستان کے نام پر رکھا گیا جو اس کے سامنے واقع ہے

جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دو اصحاب عبادہ بن صامت

اور شداد بن اوس رضی اللہ عنہم کی قبریں ہیں۔ )

خیال کیا جاتا ہے کہ امام غزالی نے ان دروازوں کے اوپر بیٹھ کر تعلیم

دیتے ہوئے اپنے احیائے دین (احیاء العلوم الدین) کا کچھ حصہ لکھا تھا۔

یہ دروازہ مسلمانوں نے 810 عیسوی میں بند کر دیا تھا لیکن صلیبیوں کے یروشلم

کو فتح کرنے کے بعد 1102 عیسوی میں دوبارہ کھول دیا گیا۔

اسے صلاح الدین ایوبی نے 1187 عیسوی میں یروشلم پر دوبارہ قبضہ کرنے

کے بعد دیوار سے لگا دیا تھا شاید دفاعی وجوہات کی بنا پر عثمانی سلطان سلیمان عظیم

نے اسے شہر کی دیواروں کے ساتھ مل کر دوبارہ تعمیر کیا لیکن

اسے 1541 عیسوی میں دیوار بنا دیا اور یہ آج تک اسی طرح قائم ہے۔

عیسائیوں کا خیال ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی دوسری آمد پر اس دروازے سے داخل ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.