امام ہادی علیہ السلام کے غم زدہ لوگوں کی حاضری

امام ہادی علیہ السلام کے غم زدہ لوگوں کی حاضری

Attends the Distressed of People Imam Hadi (AS)

 

Attends the distressed Of People Imam Hadi(a.s)

ایک دفعہ  یونس نقاش  ہمارے 10ویں امام امام ہادی علیہ السلام کو دیکھ کر

خوفزدہ اور کانپتے ہوئے آئے اور کہا اے فرزند رسول میں موت کی دہلیز پر

ہوں  آپ میرے اہل خانہ کی مدد کریں  امام ہادی علیہ السلام نے اس

سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے  یونس نقاش نے یوں کہا کہ خلافت عباسیہ کے

ایک درباری نے مجھے ایک جواہر دیا ہے کہ اس پر ایک نقشہ کندہ کروں، کام

کے دوران ہیرے کے دو ٹکڑے ہو گئے  کل وہ کسی کو جوہر جمع کرنے

کے لیے بھیجیں گے اس معاملے کے بارے میں جاننے کے لیے وہ مجھے مار ڈالے گا۔

امام ہادی علیہ السلام نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکایا پھر اٹھایا اور فرمایا  میں نے

تیرے لیے دعا کی مطمئن رہو اس کی طرف سے تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا

بلکہ یہ کام تیرے فائدے پر ختم ہو جائے گا اٹھو اور جاؤ تمہیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ کل

 

یونس نقاش

 

اگلے دن یونس نقاش ایک افسر کے ساتھ لرزتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ اس شخص

کے گھر کی طرف بڑھا۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ گھر کا مالک آ گیا اور کہنے لگا کہ اوہ

یونس نقاش یہ تو طے ہوا تھا کہ اس جوہر پر نقشہ کندہ کرو لیکن میری دو بیٹیوں کا اس

جوہر پر جھگڑا ہے  اگر ممکن ہو تو  منی کو دو ٹکڑوں میں توڑ دیں  اور اس کے

دو حصوں میں سے ہر ایک پر ڈیزائن کندہ کریں  میں تمہیں اس کا انعام بھی دوں گا

 یونس نقاش نے کہا کہ مجھے اس معاملے میں سوچنے کی اجازت دیں۔

وہ اس جگہ سے نکل کر خوشی خوشی امام ہادی علیہ السلام کے پاس واپس آیا اور

آپ کے ساتھ جو احسان کیا اس پر شکر اور شکر کا اظہار کیا اس سے کوئی فرق

نہیں پڑتا ہے کہ آپ کو کسی بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھیں

اور اس سے مدد طلب کریں کیونکہ وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔

 

عالم اسلام کا احترام

 

ہمارے دسویں امام حضرت امام ہادی علیہ السلام کے زمانے میں ایک عظیم شیعہ

عالم تھے  ایک دفعہ ایک ناصبی اہل بیت پر لعن طعن کرنے والا  کا اس عالم سے

جھگڑا ہوا اور اس عالم نے اسے قرآنی آیات اور احادیث نبوی کے ذریعے شکست دی۔

ایک دن یہ عالم ایک مجلس میں آیا جس میں زیادہ تر علوی اور بنو ہاشم کے لوگ تھے۔

اور امام ہادی علیہ السلام بھی موجود تھے  اس مجلس کے بیچ میں امام ہادی علیہ السلام

بیٹھے ہوئے تھے اور اس مقام پر ایک بڑا تکیہ رکھا ہوا تھا  جیسے ہی امام ہادی علیہ السلام

نے اس عالم کو دیکھا تو اپنی جگہ سے اٹھے اور عالم کو آگے آنے کو کہا یہاں تک کہ

امام ہادی علیہ السلام نے اسے اپنے پاس بٹھایا اور آرام کرنے کے لیے تکیہ پیش کیا۔

بنو ہاشم کے ایک بوڑھے کو یہ بات پسند نہ آئی تو اس نے شکایت کی کہ اے فرزند

رسول صلی اللہ علیہ وسلم  آپ ایک عام آدمی کو سید پر کس طرح ترجیح دے سکتے ہیں

جو ابو طالب اور عباس کی اولاد میں سے ہو

 

قرآن کی آیات

 

جب امام ہادی علیہ السلام نے یہ سنا تو اس بوڑھے پر سخت غصے میں آ گئے اور قرآن

کی آیات کو نقل کرنا شروع کر دیا تاکہ ہر ایک پر عالم کی برتری ثابت ہو سکے امام ہادی علیہ السلام

نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کیا تم قرآن کریم میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے احکامات کو مانتے ہو

سب نے کہا ہاں پھر امام ہادی علیہ السلام نے فرمایا  کیا اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا

اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درجات بلند کرے گا جو ایمان لائے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے
Noble Quran (58:11)

پھر جان لو کہ جس طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ ایک مومن کو غیر مومن پر محبوب رکھتا ہے،

اسی طرح وہ ایک مومن کو علم کے ساتھ بے علم مومن پر محبوب رکھتا ہے  (اب بتاؤ) کیا

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ بھی نہیں فرمایا کہ (اے محمدﷺ) کہو  کیا جاننے والے اور نہ جاننے

والے برابر ہو سکتے ہیں  کیا نصیحت صرف عقل والے ہی لیتے ہیں  نوبل قرآن 39:9

پھر تم لوگ مجھے اس پر ترجیح دینے سے کیوں روک رہے ہو جس کو اللہ نے ترجیح دی ہے

 اس عالم نے اپنے علم سے استفادہ کیا  جسے اللہ تعالیٰ نے عطا کیا اور اس سے ہمارے

دشمن کو شکست دی  یہ عمل میری نظر میں خاندانی رشتوں اور رشتوں سے بہتر ہے۔

 

امام ہادی علیہ السلام قرآن کریم سے  وضاحت  فرماتے ہیں

 

ایک مرتبہ عباسی خلیفہ المتوکل کو زہر دیا گیا تو اس نے نذر مانی کہ اگر میں مکمل صحت یاب

ہو گیا تو مال کثیر کو اللہ کی راہ میں خرچ کروں گا۔

مال الکثیر کا مطلب ہے ‘کثرت رقم’، لیکن عباسی خلیفہ المتوکل نے رقم کی وضاحت نہیں کی۔

جب وہ آخرکار صحت یاب ہوئے تو عباسی خلیفہ المتوکل نے اپنے علماء کو بلایا، انہیں

اپنی نذر کے بارے میں بتایا اور ان سے اس رقم کے بارے میں رہنمائی طلب کی جو

اسے ادا کرنی چاہیے تاکہ اسے مال الکثیر قرار دیا جائے۔ اسے مختلف جواب ملے۔

ایک نے کہا کہ وہ 1000 درہم ادا کرے۔ دوسرے نے کہا کہ وہ 10,000 درہم ادا

کرے اور تیسرے نے کہا کہ رقم 100,000 درہم ہونی چاہیے۔ عباسی خلیفہ المتوکل

الجھن میں تھا اور نہیں جانتا تھا کہ وہ کس عالم کی نصیحت پر عمل کرے۔

ایک درباری جس کا نام حسن تھا اس نے کہا کہ اے متوکل  اگر آپ مجھے اجازت دیں

تو میں آپ کے سوال کا صحیح جواب دے دوں گا  عباسی خلیفہ المتوکل نے اس سے کہا،

ٹھیک ہے  پھر جاؤ اور میرے لیے صحیح جواب لے لو اگر تم مجھے راضی کرو گے تو میں

تمہیں 10,000 درہم تحفے میں دوں گا ورنہ تمہیں کوڑے مار دوں گا۔

 

عباسی خلیفہ المتوکل

 

درباری ہمارے دسویں امام امام ہادی علیہ السلام کے پاس آئے جو زیر نگرانی تھے۔

امام ہادی علیہ السلام نے اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ تم مجھ سے مال کثیر کے بارے میں

پوچھنے آئے ہو، جا کر عباسی خلیفہ المتوکل سے کہو کہ یہ 80 درہم ہے۔ عباسی خلیفہ المتوکل

نے جب یہ سنا تو اس نے ثبوت طلب کیا۔

امام ہادی علیہ السلام نے درباری کو بتایا، “اللہ  قرآن مجید میں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم

سے فرماتا ہے: ‘اللہ نے آپ کو بہت سے مقامات پر فتح سے نوازا جب ہم نے فتح کے مقامات کو شمار کیا تو Noble Quran (9:25)ان کی تعداد 80 تھی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتیر کی تفسیر اسّی ہے۔

عباسی خلیفہ المتوکل نے جب یہ سنا تو مطمئن اور بے حد خوش ہوا۔ وعدے کے مطابق

درباری کو 10,000 درہم سے نوازا گیا۔

 

ظالم عباسی خلیفہ المتوکل

 

ہمارے دسویں امام امام ہادی علیہ السلام المتوکل کے زمانے میں ظالم عباسی خلیفہ سخت

بیمار ہو گئے۔ ڈاکٹر اسے بہتر نہ کر سکے۔متوکل کی والدہ بہت غمگین ہوئیں اور

امام ہادی علیہ السلام سے مدد کی درخواست کی  امام ہادی علیہ السلام نے اسے بتایا

کہ اپنے بیٹے المتوکل کو بہتر بنانے کے لیے کون سی دوائی استعمال کرنی ہے اور جب

اس نے وہ چیز استعمال کی جو امام ہادی علیہ السلام نے اسے استعمال کرنے کے لیے

کہی تھی تو متوکل دوبارہ تندرست ہو گئی۔

نتیجہ: اگرچہ ہم اپنے2 1ویں امام امام مہدی علیہ السلام کو نہیں دیکھ سکتے لیکن وہ ہمیں دیکھ

 سکتے ہیں اور جانتے ہیں کہ جب ہمیں ان کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ ہماری مدد کے لیے آتے ہیں۔

 

You May Also Like: Canal of the Zubaida

You May Also Like: Imam Hadi(as)His Childhood

Leave a Reply

Your email address will not be published.