غار ثور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے 3 معجزے

غار ثور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے 3 معجزے

3 Miracles Of Prophet Muhammad (PBUH) at Cave of Thawr

 

غار ثور مکہ مکرمہ کے آخری حصے میں واقع ہے۔ جبل ثور ان مشہور معجزات کے لئے مشہور ہے۔جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم) کے ہجری کے دوران ہوئے تھے۔

اہل عرب نے آٹھ سال کے ختم نبوت کے دوران حضرت  محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راہ میں بڑی پریشانی کا

منصوبہ بنایا تھا۔ اس وقت مکہ کے قریش حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے بڑے دشمن تھے۔622ء حجۃ

کا پہلا سال تھا، حجۃ کا مطلب ہجرت ہے۔

جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام مسلمانوں کو ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا۔

 یہ وہ تین معجزات تھے جو کوہ ثور پر پیش آئے تھے جسے جبل ثور بھی کہا جاتا ہے۔

 قریش کے استاد نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قتل کا منصوبہ بنایا۔

 

جب مکہ کی طرف ہجرت شروع ہوئی تو قریش نے حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قتل کی منصوبہ سازی کی۔

جب حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بستر پر سو رہے تھے تو اللہ کی ہدایت سے وہ کامیابی سے بچ گئے اور

انہوں نے چھوٹے علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنے بسترپرچھوڑ دیا۔

تب حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  غار ثور میں تشریف لےگے ۔

حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے وفادار دوست ابو بکر تھے، انہوں نے انہیں مکہ مکرمہ چھوڑ دیا۔

قریش نے ہٹ مینوں کو حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو قتل کرنے کے لیے بھیجا۔

جب حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابو بکر ر-ض کو اس کا علم ہو ا تو  انہوں نے غار میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

 

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا غار ثور میں سانپ کا سامنا

 

غار میں جانے سے پہلے ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے
اس میں داخل ہونے سے پہلے غار کو صاف کر دیا۔

سانپ کے بہت سارے گڑھے تھے جنہیں ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے
لباس کے ایک ٹکڑے سے ڈھانپنے کی کوشش کی تھی۔

صرف ایک سانپ کا گڑھا تھا جسے غلطی سے کھلا چھوڑ دیا گیا تھا۔

حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح تھک گئے کہ انہوں نے
ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کی گود میں آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔

سانپ کی ڈال جو کھلی رہ گئی تھی بعد میں ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پاؤں سے ڈھانپ لیا۔

سانپ کے جس گڑھے کو ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پاؤں سے ڈھانپ لیا تھا انھیں سانپ نے کاٹ لیا۔

آپ نے اپنا پاؤں اس سانپ کے گڑھے سے نہیں نکالا کیونکہ وہ جانتےتھےکہ
حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو رہے ہیں

سانپ کے کاٹنے سے ہونے والا درد اتنا شدید تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو نکلنے شروع ہو گئے

اور جب حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گال پر آنسو گر پڑے تو وہ بیدار ہوگے۔

سانپ نے انھیں کاٹا  ، یہ جان کر حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا لعاب دہن اس جگہ پر پھیرا

جہاں سانپ نے ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو کاٹا تھا، ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو آرام محسوس ہونے لگا اور

چند ہی منٹوں میں درد دور ہو گیا!اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے

اگلے 3 دن اور  3 راتیں غار میں قیام کیا۔

کس طرح مکڑیوں اور کبوتروں نےحضرتمحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدد کی۔

!ایک موقع پر قریش کا آدمی غارمیں داخل ہوا- لیکن ایک معجزہ ہو گیا

سانپ اور کبوتر نے غار کو اس طرح بندکیا ایسا لگتا جیسے مکڑی نے جالا بنا دیا ہے

اور کبوتروں نے انڈے دے کر اس جگہ کو ایک نظر دی جیسے کوئی اس غار میں داخل نہ ہوا  ہو

لیکن حضرت  محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ اس غار میں آرام کر رہے تھے

اس جگہ پر ایک نظر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.